30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدینے کے والی مدینے میں:
مدینہ پاک شہرِ مکہ سے تقریباً 210 میل پر واقع ہے۔ اہلِ مدینہ کو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تشریف لانے کا پتہ چلا تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس وقت کے ممکنہ سفر کے دن تو انہوں نے کسی طرح گزار دئیے۔ ان کے بعد وہ روزانہ صبح سویرے ہتھیار سجا کر شہر سے باہر نکلتے، ایک میدان میں جمع ہو کر مکے سے آنے والی راہ پر نظریں جمائے رہتے۔ جب دھوپ میں شدت آتی اور قافلوں کے آنے کا وقت بھی ختم ہو جاتا تو ان کی امید مایوسی میں بدل جاتی اور انتظار کرنے والے افسردہ ہو کر گھروں کو لوٹ آتے۔ انتظار کا یہ مسلسل تیسرا دن تھا،وہ حسبِ معمول انتظا ر کرکے گھروں کولوٹ چکے تھے، ایک یہودی نے اپنے بلند قلعے سے دیکھا کہ ایک کاروان آبادی کی طرف بڑھ رہا ہے ، وہ سمجھ گیا کہ یہی وہ قافلہ ہے جس کا انتظار ہے۔ اس نے زور سے پکار کر کہا: اے مدینہ والو! جس قافلے کا تم انتظار کرتے تھےوہ ا ٓرہا ہے۔ یہ پکار سنتے ہی ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی، انصار ہتھیار سجا کر تیار ہوئے اور مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے استقبال کیلئے دوڑ پڑے اور ایک میدان میں جمع ہونے لگے۔ میدان شمعِ رسالت کے پروانوں سے بھر گیا، انوارِ رسالت سے سب اپنی قسمت چمکانے لگے۔ 1
خادم اور مخدوم کا فرق:
یہ قبیلۂ عمرو بن عوف کی بستی تھی، ایک تعداد ایسی بھی تھی جو پہلی دفعہ آپ کی زیارت کر رہی تھی، انہیں سمجھنے میں مشکل ہوئی کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کون ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کون؟ حضرت ابوبکر ان کی مشکل کو بھانپ گئے اور
1بخاری ، 2/594، حدیث:3906 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع