30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑا کہ وہ مشرکین کی امانتیں واپس کر دیں جو انہوں نے آپ کے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ مشرکین آپ کے دشمن تھے،آج کے دور میں بھی دشمن کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا، لیکن مشرکین کو یقین تھا کہ دشمنی اور عداوت کے باوجود ہماری امانتیں صرف آپ کے پاس ہی محفوظ ہیں۔ یہ بات آپ کے نہایت اعلیٰ اور روشن کردار کی دلیل ہے۔ہمیں بھی اس پہلو پر توجہ دینے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف مشرکین آپ کو ساحر (جادوگر)، گمراہ اور کذاب(بہت بڑا جھوٹا) وغیرہ کہتے تھے، دوسری طرف اپنی امانتیں رکھوانے کیلئے انہیں آپ سے بڑھ کر مکہ میں کوئی اور نہ ملا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشرکوں کا آپ پر ایمان نہ لانا آپ کے صدق وسچائی میں شک کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ انہیں آپ کی سچائی اور راست گوئی پر تو اَب بھی یقین تھا۔ایمان نہ لانے کی وجہ ان کی ابدی بد بختی اور غرور و تکبر تھا، کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اگر وہ ان پر ایمان لے آئے تو انہیں اپنی حکمرانی اور سرداری کے لالے پڑ جائیں گے۔
ذہنی آزمائش
سیرتِ طیبہ کو یاد رکھنے کی نیت سے درجِ ذیل سوالوں کے جوابات پر غور کریں
سوال :صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کی مدینے کو ہجرت کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
سوال :کافروں نے ”دارالندوہ“ کے اجلاس میں کیا فیصلہ کیا تھا؟
سوال : رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مکہ شریف سے محبت کا اظہار کیسے فرمایا؟
سوال : رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حفاظت کیلئے غار میں قدرتی انتظامات کیا ہوئے؟
سوال :ہجرتِ مصطفیٰ کے کوئی سے دو سبق بیان کریں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع