30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجازت دی مگر انہیں اپنے پاس روکے رکھا۔ یوں آپ کےساتھ ہجرت کا شرف صرف حضرت ابوبکر کو حاصل ہوا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو حضرت ابوبکر سے بہت محبت تھی اور وہ تمام صحابہ میں آپ کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ آپ کے ظاہری وصال کے بعد وہ اسی قرب کی وجہ سے آپ کے خلیفۂ بلافصل بنے۔
(2)ہجرت کے وقت اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہجرت کے سفر میں وہ تمام مادی ذریعے اور وسائل1 استعمال فرمائے جن کا تقاضا تھا۔قلبی طور پرخوف و غم سےمحفوظ تھے،اس کے باوجود آپ نے یہ اس لیے کیا کہ آنےوالی امت کیلئےیہ رویہ مشعلِ راہ بن جائے اور وہ بھی اس کی اقتدا کریں۔ اپنے کاموں میں اسباب پر توجہ دیں کیونکہ یہی ربِّ کریم کی سنت ہے کہ اسباب کے ذریعے ہی نتائج ظاہر فرماتا ہے۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اس سفر میں جب بھی اسباب ختم ہو ئے تب بھی آپ بالکل مطمئن اور بے خوف رہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک مرحلے پر ضرور خوف و غم لاحق ہوا مگر آپ بالکل مطمئن رہے اور آپ کی برکت سے ان سے بھی خوف زائل(ختم) ہو گیا اور ان کا دل اطمینان و سکون سے بھر گیا۔2
(3) اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہجرت کرتے ہوئے اپنے پیچھے حضرت
1 چند ذریعے یہ ہیں: بستر چھوڑ کر اس پر حضرت علی کو سلانا، رفیقِ سفر کا انتخاب، تیز رفتار سواریوں کا انتظام ، تین دن تک غار میں قیام، راستوں کے ماہر شخص کا تقرر،سفر کیلئے ضروری سامان کی فراہمی وغیرہ ۔
2 فقہ السیرۃ، ص134
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع