30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شام کے وقت دودھ نکال کر انہیں پیش کرتے آتے۔حضرت ابوبکرکی صاحبزادی حضرت اسماء رات کی تاریکی میں کھانا غار میں پہنچا دیتیں۔ 1گویا خاندانِ ابوبکر پوری تندہی (محنت) کے ساتھ آپ کی خدمت میں لگا رہا۔ تین دن بعد ان دونوں کی تلاش میں وہ گرمی نہ رہی جو پہلے پہل تھی۔ یوں چار افراد2 کا مختصر سا ایک قافلہ مدینے کی طرف روانہ ہوگیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تلاش میں ناکامی کے بعد مشرکین نے اعلان کر دیا جو شخص دونوں یعنی اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے یا گرفتار کر کے لائے گا اس کو سواونٹ انعام دیا جائے گا۔3یہ سن کر لالچ میں کئی لوگوں نے آپ کو گرفتار کرنے کی ٹھانی مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔ چند ایک لوگ جو آپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو آپ کے حُسنِ سلوک اور دلنشیں اداؤں سےا یسے متاثر ہوئے کہ دل دے کر ہی واپس آئے۔
سفر ہجرت کے اسباق:
(1) اس سفرکی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سفر کیلئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، اسی لیے باقی صحابۂ کرام کو ہجرت کی
1 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص194
2 ان چار میں تیسرا شخص عبداللہ بن اُرَیْقِط تھا،جو صحرائی راستوں کا ماہر تھا، اسی لیےحضرت ابوبکر نےاس کی خدمات لی تھیں۔(دلائل النبوۃ لابی نعیم،الجزء الثانی،ص198، 199،حدیث:238) جبکہ چوتھےشخص حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام عامر بن فُہَیْرَہ رضی اللہُ عنہ تھے، یہی تھے جو بکریاں چراتے اور دودھ غار میں لاتے، یہ بھی خدمت کیلئے ساتھ لے لیے گئے۔( بخاری،2/63،حدیث:2263-السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص194)
3 انساب الاشراف للبلاذری،1/261
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع