30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہرِ مکہ سے محبت کا اظہار:
مکہ شریف مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا آبائی شہر تھا، یہاں کے گلی کوچوں میں آپ کی مقدس حیات کے پاکیزہ لمحے گزرے تھے۔ یہی وہ مقدس شہر ہے جسے آپ کے جدِّ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آباد کیا اور یہاں آپ کے تشریف لانےکی دعائیں مانگی تھیں۔ یہاں کے ذرّے ذرّے سے آپ کو بےپناہ محبت تھی، اب جبکہ قوم نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تو آپ بڑے افسردہ تھے، جب اس مقدس شہر سے باہر نکل رہے تھے تو ایک ٹیلے پر کھڑے ہو اپنے دکھ کا اظہار ایسے فرمایا: مَا اَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ، وَاَحَبَّكِ اِلَيَّ، وَلَوْلَا اَنَّ قَوْمِي اَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ یعنی اے مکہ! تُو کتنا پاکیزہ شہر ہے! اور تُو مجھے کتنا پیارا ہے! اگر میری قوم نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں بھی ہرگز نہ رہتا۔1
قدرت کے انتظامات:
آپ غارِ ثور پہنچے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو باہر روک کر غارکی صفائی کی، غار کے چپے چپے کو صاف کیا، جو سوراخ تھے انہیں بند کیا۔مکمل اطمینان کے بعد آپ نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے غار میں تشریف لانے کی درخواست کی۔ کافر آپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتےغار کے دہانے تک پہنچ گئے، یہاں تک کہ غار میں موجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غم لاحق ہوا کہ پکڑے نہ جائیں۔ اس پر اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللہ مَعَنَا ”یعنی غم مت کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ کافر غار کے دہانے پر پہنچ کر حیران ہو رہے تھے کہ دونوں کہاں گئے۔ ایک نے کہا: غار میں
1 ترمذی، 5/487، حدیث:3952
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع