30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عورت نہیں مرد قتل کریں گے۔ یوں ہی جب ان کے قبیلے کا کوئی ادنی شخص قتل ہوتا تو وہ کہتے کہ ہم بدلے میں ادنی نہیں بلکہ کسی وڈیرے اور بڑے کو قتل کریں گے۔1
زما نۂ جاہلیت اور قانونِ دِیَت و فدیہ:
اسی طرح ذات پات اور غربت و امیری کی بنیاد پر بنائے ہوئے قوانین کے تحت مقتول کی دِیَت2 میں کمی اور زیادتی کے اعتبار سے درجہ بندی مقررتھی، یوں بادشاہوں، قبائلی سرداروں اور وڈیروں کی دیت غریبوں، مسکینوں اور غلاموں کی دیت سے کئی گنا زیادہ ہوتی۔ سب سے زیادہ دیت بادشاہ کی ہوتی یعنی ایک ہزار اونٹ۔گویا غریب کا خون بے قیمت تھا جبکہ امیر اور وڈیرے کی جان بہت قیمتی تھی۔ یہی اونچ نیچ قیدیوں کا فدیہ3 دینے میں بھی ملحوظ رکھی جاتی، کوئی بادشاہ قیدی بنتا تو اس کا فدیہ ہزار اونٹ ہوتا، اسی طرح وزیروں، مشیروں، مال داروں اور طاقت وروں کا فدیہ اس سے کم ہوتا جبکہ عوام الناس کے فدیہ میں کم قیمت چیزیں وصول کی جاتی تھیں۔
زما نۂ جاہلیت اور غلامی:
دورِ جاہلیت میں گھٹیا ترین طبقہ غلاموں4 کا تھا۔ ان سے ہر وہ کام لیا جاتا تھا جسے آزاد
1 تفسیرقرطبی، پ2، البقرۃ،تحت الآیۃ:187، 1 / 565
2 مقتول کے رشتہ دار قاتل کی جاں بخشی کے بدلے جو مال لیتے ہیں ۔(بہارشریعت،3 / 830 ،حصہ:18ماخوذاً)
3 قیدی کی رہائی کے لیے دی جانے والی رقم کو فدیہ کہتے ہیں۔(فیروز اللغات،ص982)
4 غلام وہ انسان ہے جو کسی اور انسان کی ملکیت میں ہو۔ پرانے دور میں غلاموں کی خرید و فروخت کی جاتی تھی، یہ سلسلہ آمدِ اسلام سے پہلے ہی جاری تھا۔ سب سے پہلے اسلام نے اس نظام کی اصلاح کیلئے کوششیں کیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع