30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابوبکر سمجھ گئے کہ ضرور کچھ اہم معاملہ ہے۔ حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام نے ہجرت کی اجازت ملنے کا ارشاد فرمایا، حضرت ابوبکر نے فوراً پوچھا: کیا یہ غلام بھی ساتھ ہوگا؟ فرمایا: یقیناً۔ خوشی کے مارے حضرت ابوبکر کی آنکھیں بھرآئیں۔ ہجرت اور اس کے ضروری انتظامات پر گفتگو ہوئی اور طے ہوگیا کہ آج رات سفر شروع ہوگا۔ اس کے بعد حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام واپس تشریف لے گئے۔1
مولا علی کیلئے اعزاز:
عجیب بات یہ بھی ہے کہ مکہ کے کافر ایک تو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سب سے بڑے دشمن تھے، دوسری طرف سب سے زیادہ اعتماد بھی آپ پر کرتے تھے۔ آج وہ جن کے خون کے پیاسے تھے انہی کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے تھے۔ افسوس کہ اپنی شرارتوں کے سبب آج اسی ”امین و صادق“ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر رہے تھے۔ اس رات کے ماحول میں ان امانتوں کی ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن صادق و امین نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سب سے پہلے ان امانتوں کا انتظام فرمایا۔ اس ذمہ داری کیلئے حضرت مولا علی کَرَّم اللہ وجہہ الکریم کا انتخاب ہوا، آپ نے ساری امانتیں ان کے سپرد فرمائیں اور طے ہوا کہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد وہ یہ امانتیں مالکوں کو سونپ کر مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر لیں۔2
داستانِ شبِ ہجرت:
بہرحال دن کے اجالے میں کالے منصوبے بناکر مکہ کے اکابر مجرم سارا دن نفاذ
1 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص 193ملخصاً
2 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص 194
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع