30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
”دارالندوہ1“ میں ہوئی۔ مقررہ وقت پر شیطان کے سارے چیلےاس ”پریشان کُن“ مسئلے کے حل کیلئے جمع ہو گئے۔ شیطان کے چیلے اتنے اہم کام میں مصروف ہوں اور وہ خود نہ ہو؟ لہٰذا وہ خود بھی ایک بوڑھے شخص کی صورت میں آن دھمکا، مکان میں اجنبیوں کا داخلہ منع تھا، اس لیے ایک اجنبی کو دیکھ کر لوگ کہنے لگے: مَنْ اَنْتَ وَمَا اَدْخَلَكَ عَلَيْنَا فِيْ خَلْوَتِنَا هَذِهٖ بَغَيْرِ اِذْ نِنَا ؟ یعنی تم کون ہو؟ اور تمہیں ہماری اس پرائیویٹ محفل میں آنے کی اجازت کس نے دی؟ شیطان خوشامد کرتے ہوئے گویا ہوا: میں نجد کا رہنے والا ہوں، میں نے تمہارے حسین و جمیل چہرے اور مہکتے وجود دیکھے تو سوچا کہ چند گھڑی تمہاری صحبت پاؤں اور تمہاری گفتگو سے فیض یاب ہوجاؤں، تاہم اگر تمہیں میرا آنا ناگوار گزرا ہے تو واپس چلا جاتا ہوں۔ خوشامد میں موجود شہد کی سی مٹھاس نے اثر دکھایا، کچھ لوگ کہنے لگے: یہ نجد کا رہنے والا یعنی باہر کا آدمی ہے، اس نے ہماری باتیں سن بھی لیں توکوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اجلاس شروع ہوگیا، مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر رد کر دی گئیں۔ آخر میں شیطان کے شاگردِ خاص ابوجہل نے اپنی شیطانی عقل کو آواز دے کر یہ تجویز دی: چند افراد کا ایک ایسا گروپ بنا لیا جائے جس میں ہر قبیلے کا نوجوان، بہادر، عالی نسب نمائندہ موجود ہو۔ یہ سب تلواریں لے کر ایک ساتھ حملہ کریں اور اُنہیں( رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو)قتل کر دیں تو
1 حضرت قصی نے ایک عمارت بنائی جسے”دارالندوہ“ کہا جاتا تھا۔یہ مکہ والوں کا گویا شوریٰ (پارلیمنٹ)ہاؤس تھا، یہاں شرط تھی کہ وہی شریک ہوگا جو چالیس سال کا ہو، مگر ابوجہل نوجوان ہونے کے باوجود اپنی مکاری اور عیاری کی وجہ سے یہاں شریک ہو سکتا تھا، دراصل اس کی قوم اسے بڑا ذہین اور عقل مند سمجھتی تھی، اسی لیے وہ ابوالحکم کہلاتاتھا۔(شرح الزرقانی علی المواہب،2/94-السیرۃ النبویۃ لدحلان،1/180)یہ جگہ مسجدِ حرام سے باہرتھی، جدید توسیع میں یہ جگہ مسجد میں شامل ہو گئی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع