30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے۔1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مدینہ تشریف لے جانے سے پہلے پچیس صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان مدینہ شریف ہجرت کر کےپہنچ چکے تھے۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ م اجمعین
ہجرت کا یہ عمل کچھ دنوں میں اتنی تیزی سے ہوا کہ کافروں کو کچھ سمجھ نہ پڑی۔ وہ ہجرت کرنے والوں کو روکتے ہی رہ گئے کہ مسلمانوں سے مکہ شریف خالی خالی نظرآنے لگا، اب صرف وہ رہ گئے تھے جو ہجرت کرنے سے عاجز تھے۔ ان کے علاوہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت مولاعلی کَرَّم اللہ وجہہ الکریم نے ابھی ہجرت نہیں فرمائی تھی ۔ حضرت ابوبکر نے آپ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: لَا تَعْجَلْ! لَعَلَّ الله يَجْعَلُ لَكَ صَاحِبًا یعنی جلدی مت کرو! شاید اللہ پاک کسی کو تمہارا ہم سفر بنا دے۔ اس سے انہیں یہ امید ہوئی کہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اسی لیے انہوں نے دو سواریاں سفر کیلئے تیار کرنا شروع کر دی تھیں۔2
کفار کانفرنس:
کفار اس پوری صورتحال سے بڑے پریشان ہوئے،انہیں احساس ہوگیا کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی عن قریب مکہ سے چلے جائیں گے اور پھر ایسا نہ ہو کہ مسلمان مل کر مکہ پر حملہ کر دیں۔ مسئلے کا حل نکالنے کیلئےا نہوں نے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جو
1 بخاری، 2/600، حدیث:3925
2 معجم کبیر،22/177، حدیث:462-السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص191
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع