30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی طرف ہجرت کر جاتا۔ جو چپکے سے مدینے شریف کی طرف نکل جاتے وہ تو عافیت میں رہتے لیکن جن کی روانگی کی بھنک بھی کافروں کو پڑ جاتی انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔
سب سے پہلے مہاجر:
سب سے پہلے ہجرتِ مدینہ کی سعادت پانے والے صحابی حضرت ابوسلمہ عبد اللہ بن عبدالاسد مخزومی رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ پہلے حبشہ بھی گئے تھے، کئی سال بعد جب واپس آئے تو کفار نے انہیں پھر تشدد و اذیت کانشانہ بنایا۔ جب انہیں پتہ چلا کہ مکہ سے چند سو میل کے فاصلے پر موجود بستی میں مسلمانوں کی کافی تعداد آباد ہے تو انہوں نے مزید ظلم سے بچنے کے لیے وہاں ہجرت کی۔ اولاً ان کی اہلیہ اور ان کے صاحبزادے حضرت سلمہ بھی ساتھ تھے، مگر کافروں نے اطلاع پر ان کی اہلیہ اور ان کے لختِ جگر کو روک لیا۔ مگر حضرت ابوسلمہ نے اپنی منزل سے رخ نہیں پھیرا اور منزل پرپہنچ کر ہی دم لیا۔ ان کی یہ ہجرت ”بیعت عقبۂ ثانیہ“سے پہلے ہوئی۔ 1 انصاری صحابی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہجرت کی داستان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ اُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ، فَقَدِمَ بِلَالٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَدِمَ النَّبِىُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی سب سے پہلے جو صحابہ ہمارے پاس پہنچے وہ (1)حضرت مصعب بن عمیر اور (2) حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم تھے، وہ دونوں لوگوں کو قرآن پڑھانے لگےپھر جنابِ(3) عمار و (4)بلال اور(5) سعد آگئے پھر حضرت عمر بن خطاب بیس(20) صحابۂ کرام کی جماعت کے ساتھ آپہنچے۔پھر نبی کریم صلی اللہ
1 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص186ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع