30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہائی کا سامان کیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی غلامی کے صدقے انہیں عزت و عظمت کا وہ تاج ملا جو بڑے بڑے بادشاہوں کو نصیب نہ ہوا۔ اسی غلامی نے انہیں وہ رفعت و بلندی عطا کی کہ جو ان کا غلام ہوا وہ کائنات کا امام بن گیا۔ قرآنِ کریم نے ان کی کامیابی و کامرانی کا اعلان فرمایا۔ آفتابِ نبوت و مہرِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں ستاروں کی مثل قرار دیا اور ان کی پیروی کرنے والوں کو ہدایت و کامرانی کی ضمانت عطا فرمائی۔
بالخصوص ”عقبۂ ثانیہ“ میں ستر سے زائد افراد کی بیعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حفاظت کیلئے جان کی بازی لگانے کے عہد(وعدے) سے مکہ میں ظلم و ستم کا نشانہ بنتے مسلمانوں کو گویا ایک ٹھکانہ مل گیا۔ اہلِ مکہ کو جیسے ہی بیعت کی اس خبر کا یقین ہوا تو گویا ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ غصے میں باؤلے ہو کر انہوں نے مکہ کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی مہم مزید سخت کر دی۔ ایسے ماحول میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے رب کریم کے اذن (حکم) سے صحابۂ کرام علیہمُ الرضوان کو مدینہ شریف کی طرف ہجرت کی اجازت عطا فرما دی۔1
صحابۂ کرام کی ہجرت:
صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم سے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔یہ درحقیقت اہل و عیال، گھر بار، مال و متاع سب سے ہاتھ دھونا،محض جان بچا کر اجنبی شہر کی طرف جانا، پھر طویل سفر، دشمنوں کا خوف، ایسے میں جان بھی جا سکتی ہے، لیکن جو بازارِ نبی میں بک گئے ہوں وہ ایسی چیزوں کی پروا کیسے کریں؟ چنانچہ جسے موقع ملتا وہ مدینے
1 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،ص186ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع