30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہجرتِ مدینہ کی وجوہات:
”اسلام“ صرف اہلِ مکہ یا جزیرۂ عرب کے باسیوں (رہنے وا لو ں) کی تقدیر بدلنے نہیں آیا تھا، بلکہ ساری انسانیت کو تمام گمراہیوں سے نکال کر ہدایت کی شاہراہ پر چلانا اس کا مقصد ہے۔ اہلِ مکہ کی خوش قسمتی کہ رب کے اس پسندیدہ دین کے سب سے پہلے مخاطب وہی بنے۔ وہ چونکہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خونی رشتہ دار تھےاور ہم وطن بھی، نیز آپ کی مقدس و پاک دامن زندگی کے ایک ایک دن کے گواہ بھی تھے اور اس کے معترف بھی، توہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قدر کرتے اور ان کیلئے دیدہ (آنکھ) و دل فرشِ راہ کرتے(بچھادیتے)۔ ان کی دعوت کو حق مان کر اس کے سب سے پہلے داعی اور مبلغ بنتے اور دنیا کے تاجدار بن جاتے۔ مگر ان کی بھاری تعداد نے اس نعمتِ کبریٰ کی قدر نہ کی۔انہوں نے اس دعوت کو ٹھکرایا بھی اور اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دعوت میں روڑے اٹکانا بھی شروع کر دیے۔ مکہ کے وہ چند خوش بخت افراد جنہوں نے اس دعوتِ عظمیٰ کو قبول کیا اہلِ مکہ ان کے بھی دشمن ہو گئےاور ان پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ ان کے تَرکَش میں ظلم وستم کے جتنے بھی تیر تھے انہوں نے وہ سب اللہ کے ان بندوں پر دل کھول کر آزمائے۔ خود مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی خاندانی وجاہت و وقار کے باوجود ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔اسی وجہ سے آپ نے پہلے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی تھی۔
اب جبکہ اللہ پاک نے مدینہ شریف کے باسیوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کی محبت ڈال دی اور ان خوش بختوں نے تھوڑے ہی وقت میں اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لا کر کفر و شرک کی گمراہیوں سے بھی چھٹکارا پایا اور جہنم کی آگ سے بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع