30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَالْهَدْمَ الْهَدْمَ اَنَا مِنْكُمْ، وَاَنْتُمْ مِنِّي اُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ، وَاُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ یعنی میرا تمہارا خون کا مطالبہ ایک ہے، میری تمہاری خون کی معافی ایک ہے، میں تمہارا تم میرے، جس سے تمہاری لڑائی اس سے میری لڑائی،جس سے تمہاری صلح اس سے میری صلح۔1 سب حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام کی بیعت کرنے لگے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس حسین اور دل کش واقعہ کی منظر کشی یوں فرماتے ہیں: فَقُمْنَا اِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَاْخُذُ عَلَيْنَا بِشُرْطَةِ الْعَبَّاسِ، وَيُعْطِيْنَا عَلَى ذٰلِكَ الْجَنَّةَ یعنی ہم ایک ایک کر کےحضور کے پاس جا رہے تھے،آپ حضرت عباس والی اُنھی شرائط کے مطابق ہم سے بیعت لیتے جا رہے تھے اور اس کے بدلے ہمیں جنت عطا فرماتے جا رہے تھے۔2
بیعت کے بدلے جنت:
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس وقت نومسلم تھے، دو سال پہلے ایمان لائے تھے اور فوراً مدینے چلے گئے تھے، مدینہ کے رہائشی اور انصاری صحابی تھے،جو کچھ سیکھا ہوگا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہوگا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کمالات و خصائل کے مشاہدے کا انہیں بہت ہی مختصر موقع ملا ہوگا، لیکن اپنے ان چند جملوں میں پوری امت کو عقیدہ بھی بتا رہے اور عقیدت بھی سکھا رہےہیں۔ وہ یہ کہ اس بیعت کی شرائط کے بدلے دوجہاں کے والی، کائنات کے آقا، حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صحابہ میں جنت تقسیم فرما رہے تھے۔ یقیناً یہ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تزکیہ فرمانے
1 مسند احمد، 25/89تا93، حدیث: 15798ملتقطاً
2 مسند احمد، 23/22، 23،حدیث:14653
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع