30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رنگ لا رہی تھی، دعوتِ حق کا وہ بیج جو تیرہ سال پہلے بویا تھا اب اس کے تناور درخت بننے کا وقت تھا اور اس کے ثمرات ظاہر ہو رہے تھے۔ شاید گزشتہ تیرہ برس میں اس طرح کی خوشی کا پہلا دن تھا۔ طے یہی پایا کہ مقامِ عقبہ پر ہی ایامِ تشریق1 کی ایک شب کو پھر ملاقات ہوگی۔ تنہائی میں بیٹھ کر مکمل غور و فکر اور عہد وپیمان کے ساتھ فیصلے کیے جائیں گے۔ حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ یہ ملاقاتیں اور باتیں مکہ کے کافروں سے بھی پوشیدہ رہیں اور قافلے کے ساتھ آنے والے مدینے کے کافروں سے بھی یہ امور چھپے رہیں، اس کا خاص اہتمام کیا گیا۔
بیعت کی شرائط:
بالآخر وہ دن آگیا، اس تاریخی میٹنگ کی روداد وہاں موجود ایک صحابی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنتے ہیں؛ ان کا بیان ہے: ہم حج سے فارغ ہو گئے اور جس رات کو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ملاقات کا وعدہ تھا وہ رات آئی تو ہم حسبِ دستور اپنی قوم کے ساتھ اپنے اپنے خیموں میں سو گئے، جب رات کا ایک تہائی(1/3) حصہ گزر گیا اور ہر طرف خاموشی اور سناٹے نے ڈیرے ڈال دیئے تو ہم اپنے بستروں سے چپکے چپکے نکلنے لگے اور طے شدہ گھاٹی میں جمع ہونے لگے، یہاں تک کہ سب وہاں جمع ہوگئے، ہماری کل تعداد 72 تھی، 70مرد اور 2 عورتیں تھے، گھاٹی میں ہم مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا انتظار کرنے لگے، یہاں تک کہ وہ ساعت آ گئی اور آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لے آئے، ان کے ساتھ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے مگر چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے معاملات میں شریک رہیں۔ دورانِ گفتگو انصار
1 9 ذوالحجہ کی فجر سے لے کر 13ذُوالحجہ کی عصر تک کے دن ایامِ تشریق کہلاتے ہیں۔ (درمختار ،3/71 تا75 ملتقطا)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع