30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرصے میں شہرِ مدینہ میں کوئی محلہ، کوئی گلی یا کوئی قابلِ ذکر علاقہ ایسا نہ رہا جہاں کسی نہ کسی فرد نے معرفتِ الٰہی کا جام نہ پی لیا ہو۔ یہ حضرت مصعب بن عمیر کی ان تھک محنت کا نتیجہ تھا کہ ایک سال کے اندر اندر سینکڑوں افراد کے دل معرفتِ الٰہی اور حُبِّ رسول کے نور سے جگمگا اٹھے۔ بڑے بڑے رئیسوں سمیت مدینہ شریف کے تقریباً ہر گھر میں مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکرِ خیر وہاں کی پُر نور فضاؤں کو مہکا نے لگا۔1
انصار کی پیش کش:
جب مدینے میں اسلام کے نام لیواؤں کی تعداد کافی حد تک بڑھ گئی تو انصار نے سوچا کہ اس دفعہ ہم حج کے موقع پر ایک زبردست وفد لے کر جائیں اور اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سےعرض کریں کہ وہ ہمارے درمیان تشریف لے آئیں۔ چنانچہ حج کا موسم قریب آیا تو حضرت مصعب بن عمیر کی قیادت میں حاجیوں کا ایک قافلہ مکہ پاک کیلئے روانہ ہوا۔اس میں ستر انصاری ایسے تھے جو مسلمان ہو چکے تھے، ان کے ساتھ مدینہ کے کئی مشرک بھی تھے۔ مکہ پہنچ کر حضرت مصعب نے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مدینہ پاک میں دعوتِ حق کی اشاعت میں ہونے والی کامیابیوں کی خوش خبری سنائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ سن کر بڑے خوش ہوئے۔2 بعثت کے بعد سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جن مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا اب ان میں تبدیلی رونما ہوتی نظر آرہی تھی۔ مشکلات پر صبر، اپنوں کی شرارتوں اور غیروں کی عداوتوں پر تحمل کی پالیسی
1 معجم کبیر،20/ 362،حدیث: 849 ملخصا ً
2 طبقات ابن سعد،3/88
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع