30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو مشرک تھے، دوسرے یہودی(بنو قریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع) جو مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے وہاں آئے تھے۔ یہودیوں نے کوششیں کر کے اوس و خزرج کے قبائل میں جنگ و جدل کو ہوا دی(بڑھایا)، یوں دونوں کے مابین (درمیان) طویل اور خون ریز جنگیں ہوئیں۔ اسی وجہ سے دونوں قبیلوں نے یہودیوں کے مختلف قبیلوں سے اتحاد بھی قائم کئے، لیکن اسی اثنا میں(اسی دوران) کبھی کبھی عربوں اور یہودیوں میں باقاعدہ ٹھن جاتی تھی۔ ایسے موقع پر یہودی عربوں کو دھمکی دیتے کہ آخری نبی کی بعثت(تشریف آوری) کا زمانہ قریب ہے، ہم ایمان لا کر ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسے قتل کر دیں گے جیسے قومِ عاد اور قومِ ارم کو قتل کیا گیا۔ اس سے اہلِ مدینہ کے عربوں کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ایک نبی تشریف لانے والےہیں، یوں اہل مدینہ دینِ اسلام سے متعارف ہوئے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کچھ امیدیں بھی لگائی ہوں کہ اس دین کی برکت سے ان کی صفوں میں اتحادکی فضا پیدا ہو جائے۔ یہ بھی اتفاق ہےکہ مدینہ شریف کے عرب حج کیلئے مکہ آتے تھے جبکہ یہودی اس سے محروم تھے۔ یوں اہلِ مدینہ کے عربوں کی قسمت کا ستارہ چمکا اور انہوں نے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دامنِ رحمت کو تھام کر پوری دنیا کیلئے مدینہ شریف کو مرکز اور مرجع بنا دیا۔
بیعت کی وجہ:
یہاں ایک بات یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بیعتِ عقبہ اولیٰ میں اہلِ مدینہ سے توحیدو رسالت کے ساتھ ساتھ چند باتوں پر بیعت لی۔ حالانکہ محض توحیدو رسالت کی تصدیق اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام جاننا ہی اسلام کی حدود میں داخل کر دیتا ہے۔اگر ہم ان باتوں کی گہرائی پر غور کریں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آپ نے ان سے روز مرہ کے معاملات کو اسلام کے نظامِ اخلاق کے مطابق ڈھالنےکی بیعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع