30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت مصعب کی طرف لکھا کہ وہ مدینہ میں نمازِ جمعہ قائم کریں تو یہ سعادت بھی انہوں نے حاصل کی۔1
انصار اشاعتِ اسلام کا سبب کیوں؟
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے، بچپن سے اب تک اپنی پوری حیات قریش کے ساتھ گزاری، گیارہ بارہ سال کی دن رات کوششوں کے بعد جب پیغامِ حق عام ہونے کے امکانات ظاہر ہوئے تو اس قوم سے جو مکہ سے سینکڑوں میل دور رہتی تھی، حالانکہ انصار کے بجائے قریش ہی اس خدمت کیلئے سامنے آتے کہ بارہ تیرہ سال تک انہیں ہی دین کی دعوت دی جاتی رہی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پہلے مددگار اور معاون ان کی اپنی قوم سے نہ ہوں، یہی بات قرینِ قیاس(عقل کے قریب)ہے۔ تاکہ کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ آپ کی دعوت صرف ایک قوم یا ایک علاقے تک تھی، اسی وجہ سے وہی قوم آپ پر ایمان لائی اور اسی کے دوش اور سہارے سے دوسری قومیں ایمان کی راہ پر گامزن ہوئیں ۔
ایک اور حکمت:
ایک حکمت یہ بھی نظر آتی ہے کہ مدینہ شریف میں اسلام کی ابتداء اور تھوڑے ہی عرصے میں اس کی عظیم الشان قبولیت کی وجہ سے یہ لگتا ہے کہ اللہ پاک نے مدینہ شریف کے ماحول اور وہاں کے رہنے والوں کو اسلام قبول کرنے کیلئے پہلے سے ہی تیار فرما دیا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مدینہ شریف میں دو طرح کے لوگ رہتے تھے؛ ایک عرب(اوس و خزرج)
1 السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، 2/181
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع