30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثبوت تھا کہ اللہ پاک سے محبت کرنے والوں اور رب کی محبت پانے والوں کے ساتھ یہی سنتِ الٰہی ہے کہ انہیں ہر دور میں آزمائشوں اور تکلیفوں کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ (4)اس سفر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نےآپ کی بارگاہ میں جب ایک پیالہ شراب اور ایک پیالہ دودھ کا پیش کیا تو آپ نے دودھ پسند فرمایا، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین ہی دینِ فطرت ہے۔ یعنی یہ ایسا مذہب ہےجو اپنے اندر ہر وہ چیز رکھتا ہے جو انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اسلام میں ایسی کوئی چیز نہیں جو انسان کی حقیقی فطرت کے خلاف یا متصادم(اس سے ٹکراتا) ہو۔ کم وقت میں اس دین کے پھیل جانے اور لوگوں کے اسے دیوانہ وار قبول کرنے اور پھر اس پر تن، من اور دھن وار دینے کی بھی یہی وجہ ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی دین کی راہ پر استقامت نصیب فرمائے۔1 اٰمِیْن
بیعتِ عقبہ اولیٰ:
اعلانِ نبوت کے بارہویں سال (622 عیسوی) حج کے موسم میں مدینہ شریف کے چھ افراد کے قبولِ اسلام کو پورا سال بیت گیا۔ وعدے کے مطابق حج کے موسم میں پھر سے انصار رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس دفعہ ان کی تعداد بارہ تھی۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کو چھوڑ کر پانچ وہی تھے جو پچھلے سال ایمان لائے تھے، بقیہ سات افراد پہلی دفعہ بارگاہِ رسالت میں حاضری کے شرف سے مشرف ہو رہے تھے۔ اس دفعہ دو افراد ایسے بھی تھے جن کا تعلق قبیلہ اَوس سے تھا۔ ان سب نے آپ کے دستِ بابرکت(مبارک ہاتھ) پر ان باتوں پر بیعت کی: شرک، چوری، بدکاری اور اپنی اولاد کو زندہ
1 فقہ السیرۃ،ص110تا113 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع