30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہاں بنو خزرج کے ایک گروہ(چھ افراد) سے ملاقات ہوئی۔آپ نے ان سے پوچھا: مِمَّنْ اَنْتُمْ ؟ یعنی تم لوگ کہاں سے ہو؟ جواب میں کہا: نَفَرٌ مِنَ الْخَزْرَجِ یعنی قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اَمِنْ مَوَالِي يَهُوْدَ ؟ یعنی تم وہی ہو جن کی یہودیوں سے دوستی ہے؟ انہوں نے اثبات(ہاں) میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا: اَفَلَا تَجْلِسُونَ اُكَلِّمُكُمْ ؟ کیا ہم بیٹھ کر کچھ باتیں کر لیں؟ وہ بخوشی آپ کی باتیں سننے کیلئے تیار ہو گئے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں اسلام کے چند مرکزی احکام بتائے اور قرآنِ پاک کی چند آیات سنائیں اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ 1
انصار کا اسلام قبول کرنا:
انصار گو بت پرست تھے، مگر یہودیوں کے ساتھ میل جول سے اتنا جانتے تھے کہ نبیِّ آخر الزمان تشریف لانے والے ہیں، دراصل جب بھی یہودیوں اور انصار کے درمیان کچھ ناراضی ہوتی تو یہودی انہیں دھمکیاں دیا کرتے تھے کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ظہور(تشریف آوری) کے وقت ہم ان کے ساتھ مل کر تم سمیت سارے بت پرستوں کو نیست و نابود(ختم) کر ڈالیں گے۔ یوں انصار پہلے سے ہی ایسے نبی سے متعارف(واقف) تھے جن کی آمد متوقع تھی۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جب انہیں دین کی دعوت دی تو وہ آپس میں کہنے لگے: یہ وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کی آمد کی دھمکیاں ہمیں یہودی دیتے رہتے ہیں۔ جلدی سے ان پر ایمان لے آؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہودی ان پر ایمان لانے میں ہم سے پہل کر جائیں۔ چنانچہ ان سب نے دل و جان سے آپ کی دعوت قبول کر لی اور
1 دلائل النبوۃ للبیہقی،2/433 ،434
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع