30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لاتے اور لوگوں کو حق کی دعوت دیتے تھے۔ لیکن کوئی وہاں آپ کی باتوں کو سنجیدہ لینے پر تیار نہ ہوتا، بلکہ لوگ سخت رویے اور دُرُشت لہجے سے پیش آتے پھر بھی آپ نہایت حلم اور بردباری کا مظاہرہ فرماتے اور عزم و ہمت سے مسلسل اپنے کام میں مصروف رہتے۔1
قبائل کو پیش کش:
قریش نہ تو خود ایمان لاتے تھےاور نہ اس کو پسند کرتے تھے کہ کوئی اور ایمان کی دولت سے جھولیاں بھر کر ابدی سعادتوں سے فیض یاب ہو۔ اسی لیے وہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دعوتِ دین سے روکتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اگرچہ ہر سال موسمِ حج میں لوگوں کو دین کی دعوت دیتے تھے لیکن قریش کے رعب اور دبدبے کی وجہ سے قبائلِ عرب دین قبول کرنے سے جھجکتے تھے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ اعلان بھی فرماتے : اَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِيْ اِلٰى قَوْمِهٖ فَاِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِيْ اَنْ اُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّيْ ؟ یعنی ہے کوئی ایساشخص جو مجھے اپنے ساتھ اپنے قبیلے لے جائے، کیونکہ قریش مجھ پر پابندی لگاتے ہیں کہ میں اپنے رب کا کلام اس کے بندوں تک پہنچاؤں۔2 یہ اعلان آپ اس لیےفرماتےکہ عرب میں معمول تھا کہ اگر ان سے کوئی پناہ طلب کرتا تو وہ اسے ضرور پناہ دیتے تھے۔ اگر کوئی آپ کی اس بات کو قبول کر لیتا تو بظاہر اس کے دو فائدے ہوتے، ایک یہ کہ شاید یہی خدمت ان کی ہدایت کا سبب بن جائے یا پھر یہ ہو کہ دوسرے قبائل کیلئے ہدایت کا راستہ کھل جائے۔ لیکن کوئی بھی شخص اس عام سی پیشکش سے فائدہ اٹھا کر اپنا مقدر نہ چمکا سکا، شاید اس کی وجہ بھی اہلِ مکہ کی دشمنی رہی ہو۔
1 سبل الہدی والرشاد، 2/453 ملخصاً
2 ترمذی،4/424،حدیث:2934
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع