30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طائف سے واپسی اور حق کی دعوت:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم طائف سے شوال کے مہینے میں مکہ تشریف لائے، طائف والوں کے ہاتھوں پہنچائے گئے صدموں کو بھلا کر آپ نے مایوس ہوئے بغیر تبلیغِ دین کا سلسلہ وہیں سے شروع کر دیا جہاں چھوڑا تھا۔ حج کا موسم آتے ہی آپ مختلف قبیلوں کے پاس تشریف لے جاتے اور انہیں دین کی دعوت پیش کرتے۔ اسی طرح کہیں بھی کوئی میلہ لگتا یا لوگ جمع ہوتے آپ وہاں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو اللہ واحد و یکتا کی عبادت کی دعوت دیتے، قرآنِ پاک کی آیات پڑھ کر سناتے اور دین کی خوبیاں بیان فرماتے۔ چونکہ اہل عرب کی نس نس میں شرک و بت پرستی رچی بسی ہوئی تھی اس لیے وہ نہایت درشتی اور سخت لہجے میں آپ کے پیغام کو رد کر دیتے مگر آپ اپنے کام میں مصروف رہتے۔ عامر بن سَلَمہ جو بہت دیر بعد ایمان لائے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مسلسل تین سال دیکھا کہ آپ عُکا ظ 1 مجنہ2 اور ذی المَجاز3 کی منڈیوں میں تشریف
1 سوقِ عکاظ(Souk Okaz) طائف کے قریب واقع ایک پرانا بازار ہے۔ یہ اسلام سے پہلے ہی بڑا مشہور تھا، آج کل یہ ایک سیاحتی مقام ہے۔ یہ طائف ایئر پورٹ سے بائی روڈ تقریباً 14 اور مکہ شریف سے تقریباً 124 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بازار ذوالقعدہ کے مہینے میں لگایا جاتا تھا۔ اہل عرب کیلئے یہ بازار سے بڑھ کر ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھاجہاں ان کے قبائلی فیصلے ہوتے، قوانین بنائے جاتے، نئے معاہدے ہوتے،مرکزی اعلانات ہوتے، شعر و شاعری، خطابت اور کھیلوں کے مقابلے بھی ہوتے تھے۔ بعد میں خوارج نے یہ بازار تباہ کر دیا۔ (معجم البلدان، 3/342 )
2 سوق مجنہ(مَ،جَ،نَّہ) زمانہ جاہلیت میں حج کے موقع پر لگایا جانے والا مشہور بازار ہے ۔ ذُوالقعدہ کے ابتدائی بیس دن سوق عکاظ میں گزارنے کے بعد اہل ِعرب بقیہ دس دن سوق مجنہ میں گزارتے تھے۔ ذُوالحج کا چاند نظر آتے ہی وہ یہاں سے سو ق ذی المجاز کی طرف چلے جاتے تھے۔(معجم البلدان ، 4/209 )
3 سوق ذی المجاز(Souk Zel majaz) مکہ میں جبلِ کَب کَب کے دامن میں واقع تھا، یہ مکہ شریف سے 22، عرفات سے 13 اور حدودِ حرم سے 10کلو میٹر کے فاصلے پرہے۔ عکاظ اور مجنہ کے بازاروں کے بعد یہ بازار ذوالحج کے ابتدائی آٹھ دن لگتا تھا، اس کے بعد اہلِ عرب عرفات کو حج کیلئے چلے جاتےتھے شاید اسی لیے اس کا نام ”ذی المجاز“ پڑ گیا۔ یہ بازار بھی انہی سرگرمیوں کا مرکز تھا جو عکاظ و مجنہ میں ہوتی تھیں۔(معجم البلدان،4/207 بتغیرقلیل)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع