30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور ہم ہی قابل احترام ہیں، ہم مکے کے وا لی ہیں، مکے کے رہنے والے ہیں، ہمارے حق جیسا کسی عرب کا حق نہیں ہے، ہمارے مقام جیسا کسی کا مقام نہیں ہے۔ بیت اللہ کے جو حقوق ہم جانتے ہیں وہ کوئی اور نہیں جانتا، اس لیے حرم سے باہر کسی بھی چیز کی تم اتنی تعظیم مت کیا کرو جتنی حرم کی کرتے ہو۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود وقوفِ عرفہ چھوڑ دیا تھا، ان کی رائے میں باقی سب عربوں پر وقوفِ عرفہ لازم تھا لیکن چونکہ وہ خود اہلِ حرم تھے لہٰذا ان کیلئے مناسب نہ تھا کہ وہ حرم سے باہرکی چیزوں کی تعظیم کریں۔1 انہوں نے ایک اصطلاح بنائی ” نَحْنُ الْحُمْسُ “ اس کا مطلب تھا: اہلِ حرم، یعنی جو حرم والے ہیں ان کیلئے قوانین الگ ہیں اور لوگ جوحرم کے نہیں ہیں ان کے لیے پیمانے الگ ہیں۔قریش نے اس اصطلاح میں دوسرے قبائل بھی شریک کر لیے اور انہیں بھی حمس والوں کے حقوق دے دئیے۔یہ سب اس لیےتھا کہ ان میں اور دیگر عربوں میں امتیاز رہے۔
1 بخاری،3/180،حدیث:4520مفہوماًو ماخوذاً-السیرۃ النبویہ لابن ہشام،ص80
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع