30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرکے حضور کی غلامی اختیار کرتے انہوں نے بداخلاقی کا مظاہرہ کیا اور آپ کا مذاق اڑایا۔ ساتھ میں فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: اُخْرُجْ مِنْ بَلَدِنَا یعنی ہمارے شہر سے نکل جاؤ! آپ وہاں سے اٹھ آئے۔1
طائف والوں کا ظلم وتشدد:
آپ کے وہاں سے چلے آنے کے بعد بھی ان سرداروں کو تسلی نہیں ہوئی، انہوں نے بدمعاش اور شریر لوگ آپ کے پیچھے لگا دئیے جو جلوس کی شکل میں اکٹھے ہوکر پھبتیاں کستے(مذاق اڑاتے)، نازیباجملے کہتےاور اپنے بتوں کے نعرے لگاتے ہوئے آپ پر پتھر برسانے لگے۔ انہوں نے آپ کے نرم و نازک قدموں کو نشانہ بنایا، آپ چلتے ہوئے جو پاؤں مبارک رکھتے ٹھک سے اس پر پتھر آن لگتا، حضور اسے اٹھاتے اور دوسرا پاؤں مبارک رکھتے تو اس پر بھی پتھر آ لگتا۔ ان ظالموں نےاتنے پتھر مارے کہ پاؤں مبارک زخمی ہوگئے، خون اتنا بہا کہ مبارک جوتے خون سے بھر گئے۔ آپ کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا ٓپ کو پتھروں سے بچانے کیلئے پتھر اپنے بدن پر لیتے جس سے وہ خود بھی لہولہان ہوگئے۔جب آپ درد کی شدت سے نڈھال ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم بڑی بے دردی سے آپ کو جھٹکا دے کر کھڑا کر دیتے اور چلنے پر مجبور کرتے۔ طائف کے ان بدنصیب شہریوں نے اس معزز و محترم مہمان کو اپنے ہاں سے ایسے افسوس ناک رویے سے رخصت کیا۔آخر کار آپ نے زید بن حارثہ کے ساتھ قریب ہی موجود انگوروں کے ایک باغ میں پناہ لی۔2
1 سبل الہدی والرشاد،2/438ملخصاً
2 شرح الزرقانی علی المواہب، 2/50 ،51ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع