30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو ستانے لگے۔ اس ماحول میں مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سوچا کہ طائف1 کو دعوتِ دین کا مرکز بنایا جائے، شاید وہاں سے کوئی ایسی را ہیں نکل آئیں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ ہو۔ اس ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نبوت کے دسویں سال سن 620 عیسوی کو آپ اپنے غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ طائف کے سفر پر نکلے۔2 تقریباً 91 کلومیٹر کا طویل اور مشکل سفر آپ نے پیدل طے فرمایا۔
طائف کے واقعات:
شہرِ طائف پہنچ کر کچھ دن آرام کے بعد وہاں کے تمام سرداروں کے پاس گئے، ان سے بات چیت کی اور دعوتِ اسلام پیش کی مگر کسی نے بھی لبیک نہ کہا۔ گھر گھر دعوت دینے کا یہ سلسلہ تقریباً دس دن یا ایک ماہ تک جاری رہا لیکن وہاں کے کسی فرد کو یہ دعوت قبول کر کے اپنا مقدر سنوارنے کی توفیق نہ ملی۔ آخر کار آپ طائف کے سب سے بڑے سرداروں کے پاس تشریف لے گئے۔ یہ تین سردار تھے، ایک کا نام عَبدِیالِیل تھا اور دو اس کے بھائی مسعود اور حبیب۔ آپ نےا نہیں دعوتِ اسلام دی، بجائے اس کے کہ وہ دعوتِ حق قبول
1 طائف(Ta’if) مکہ شریف سے تقریباً 91 کلومیٹر کے فاصلےپر واقع ہے۔ یہ سعودی عرب کے صوبہ مکہ میں شامل ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس شہر کا موسم بڑا خوشگوار رہتا ہے اور اتنی گرمی نہیں ہوتی جتنی عرب کے دوسرے علاقوں میں ہوتی ہے۔ یہاں کے انگور اور شہد کافی مشہور ہیں۔ آج کل اس کی آبادی ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں موجود مسجدِ عداس اسی مقام پر واقع ہے جہاں مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آرام فرمایا تھا۔(آخری نبی کی پیاری سیرت، ص55)
2 سبل الہدی والرشاد،2/438ملتقطا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع