30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی آپ کے مددگار اور حمایتی رہے۔ یکے بعد دیگرے ان دونوں کے چلے جانے سے کافروں کو کسی آدمی کا پاس (لحاظ) نہیں رہ گیا تھا، اب وہ نہایت بے رحمی اور بڑی بے باکی سے آپ کو ستانے لگے، اسی لیے آپ نے ان دونوں کے دنیا سے چلے جانے کے سال کو ”عام الحزن“ (غم کا سال) قرار دے دیا۔
اس سال کو یہ نام دینے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں شخصیات کے چلے جانے سے دعوتِ دین کے کئی دروازے بند ہو گئے۔ جب تک یہ دونوں شخصیات حیات تھیں تو ان کی مدد و معاونت کی وجہ سے دعوت و ارشاد کے کئی کاموں میں آپ کو کامیابی حاصل ہوئی، ان کے چلے جانے کے بعد آپ کئی طرح سے کوشش فرماتے، لیکن سامنے سے مخالفت، دشمنی اور رکاوٹوں کے سوا کچھ نہ پاتے۔یوں آپ جیسے جاتے ویسے ہی واپس آجاتے، نہ کوئی آپ کی بات سنتا اور نہ کوئی ایمان لاتا، اس وجہ سے آپ غم ناک ہوئے اور اس سال کا نام عام الحزن(غم کا سال) رکھ دیا۔ بعد میں وحی کے ذریعے آپ کو تسلی دی گئی اور فرمایا گیا کہ آپ کا مقصدصرف دعوت اور تبلیغ ہے، اگر کوئی آپ پر ایمان نہیں لاتا تو اسے آپ خود پر بوجھ مت سمجھیں۔1
سفرِ طائف کی وجہ:
حضرت خدیجہ اور جنابِ ابوطالب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد مکہ کا ماحول دینِ اسلام کی دعوت کیلئے ناسازگار (ناموافق) ہوگیا۔ کافر آپے سے باہر ہونے لگے اور طرح طرح سے آپ
1 فقہ السیرۃ،ص97 ،98 ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع