30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یوں وہ ہاشمی خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔ابولہب ہاشمی ہونے کے باوجود شعب میں نہ گیابلکہ وہ کفار کے ساتھ تھا۔ ابولہب اور ولید بن مغیرہ جیسے بے رحم کافروں نے اعلان کر رکھا تھا کہ اگر یہ لوگ کہیں سے سودا خرید رہے ہوں تو کوئی بھی ان سے پہلے سودا خرید لے، پیسے نہ ہوں تب ادھار کر دے، بعد میں ہم ادا کر دیں گے۔ ابولہب تو یہ کرتا کہ جیسے ہی کوئی تجارتی قافلہ مکہ آتا اور مسلمان اس سے کوئی چیز خریدنے پہنچتے تو یہ تاجروں سے کہتا تم اِنہیں اتنے دام بتاؤ کہ یہ کچھ خرید نہ سکیں۔ ساتھ ہی قافلے والوں کو اطمینان دلاتا کہ اپنے نقصان کی فکر مت کرو! اگر تمہارا سامان فروخت نہ ہو سکا اور تمہیں خسارہ (نقصان) ہوا تو اسے میں پورا کروں گا۔ یوں بنو ہاشم کوئی چیز خریدنا چاہتے تو ابولہب کی سازشوں سے انہیں خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا۔1 اس سب کے باوجود مکہ کے کچھ لوگ ایسے تھے جو چھپ چھپا کر بنو ہاشم کی مدد کردیتے تھے۔
بائیکاٹ کا عرصہ اور اختتام:
نبوت کے ساتویں سال(617عیسوی کے) محرم شریف کے شروع میں اس محاصرے کا آغاز ہوا اور دسویں سال مسلمان شعب سے باہر نکلے۔2 اس طرح پورے تین سال شعبِ ابی طالب کے اس دردناک ماحول میں بسر ہوئے۔ بالآخر اللہ پاک نے ایسا انتظام فرمایا کہ یہ معاہدہ خود بخود کالعدم(ختم) ہوگیا۔ ہوا یہ کہ ایک دن مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
1 السیر والمغازی لابن اسحق، ص159 ،160– الروض الانف، 2/161
2 المغازی لموسی بن عقبہ، ص 57- طبقات ابن سعد، ص1/163
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع