30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لے کر شعب1 میں چلے جاؤ اور ان کی حفاظت کرو! بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب میں سے جو مسلم تھے انہوں نے ایمانی غیرت اور جو کافر تھے انہوں نے خاندانی غیرت کے تحت اس بات کو مان لیا۔ جب قریش کے مشرکین کو احساس ہوگیا کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کواکیلانہیں چھوڑیں گےتو انہوں نےاپنی ناکامی چھپانے کیلئے بنوہاشم و بنوعبدالمطلب کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کر دیا اور اعلان کر دیاکہ جب تک وہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو قریش کے حوالے نہیں کر دیتے وہ نہ ان کے ساتھ بیٹھیں گے، نہ ان کے ساتھ لین دین رکھیں گے اورنہ ان کے گھر جائیں گے۔ انہوں نے اپنی اس ناپاک سازش کیلئے باضابطہ دستاویز بنائی اور اس میں یہ سب کچھ لکھ دیا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ بنو ہاشم کے ساتھ کوئی صلح صفائی کی
1 شِعْبٌ کے معنی ہوتے ہیں: گھاٹی یعنی دو پہاڑوں کے درمیان کی کھلی جگہ۔ مکہ شریف پورا ہی پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں کئی گھاٹیاں ہیں۔ شعبِ ا بی طالب حضرت ہاشم کی ملکیت تھی، ان سے حضرت عبدا لمطلب اور پھر ابو طا لب کی مِلک ہوئی، اسی وجہ سے اسے شعب ابی طالب کہتے ہیں۔ یہ گھاٹی دو وجہ سےمشہور ہوئی؛ ایک تو یہا ں مسلمانوں کا محاصرہ(گھیراؤ) ہوا، دوسرا ایک روایت کے مطابق یہیں سےمصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمسفرمعراج کیلئے تشریف لے گئے۔ (مراۃ المناجیح،8/ 153) یہ گھاٹی بیت اللہ شریف کے بالکل قریب تھی۔ (السیر و المغازی لابن اسحق،ص159) ایک جدیدتحقیق کے مطابق اس کا محل وقوع یوں ہے کہ جبل ابو قبیس اس شعب کے بائیں جانب اور خنادم اس کے دائیں جانب واقع ہے۔ یہ گھاٹی بیت اللہ شریف سے تقریباً تین سو میٹر دور اونچائی پر واقع تھی۔ حضرتِ ہاشم کا کھدوایا ہوا کنواں”بئرِ بَذَّر“ اس گھاٹی کے دہانےپر (شروع میں)تھا۔ (معا لم مکۃ ا لتاریخیہ والاثریہ،ص145) ایک روایت کے مطابق اسی گھاٹی میں وا لدِمصطفیٰ حضرت عبدا للہ کابھی مکان تھا۔(اخبار مکہ للازرقی،ص858- اخبا ر مکہ للفاکہی،3/264) بعدمیں خلیفہ ہارون الرشیدکی والدہ نےاسی مکان کو مسجد میں تبدیل کروا دیا۔( اخبار مکہ للازرقی، ص811) دورِ جدید کے توسیعی کاموں کی وجہ سے یہ گھاٹی باقی نہیں رہی۔ اب یہاں ایک وسیع میدان ہے۔ (معالم مکۃ التاریخیہ والاثریہ، ص154)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع