30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فضا گونج اٹھی۔1 اسلام لانے کے بعد انہی کے اصرار پر اہلِ ایما ن کی جماعت اس شان سے باہر نکلی کہ ایک طرف حضرت حمزہ چل رہے تھے اور دوسری طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہما ۔ کافروں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کی حیرت کی انتہانہ رہی، کل تک جو اسلام کے دشمن تھے آج وہی سب سے بڑے محافظ بن گئے تھے۔ مسلمانوں کو حرمِ پاک میں عبادت کی آزادی چونکہ حضرت عمر کے طفیل (ذریعے) ملی تھی اس لیے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ کو فاروق(حق و باطل میں فرق کرنے والے) کا خطاب عطا فرمایا۔ 2
بائیکاٹ کی ابتدا:
حضرت عمر فاروقِ اعظم اور حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہما کے قبولِ اسلام سے کافروں کو شدید صدمہ پہنچا، ان کی وجہ سے اشاعت اور تبلیغِ دین کا کام مزید بہتر طریقے سے ہونے لگایہ دیکھ کر کافروں کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ اسلام کی تبلیغ کو کیسے روکا جائے۔ آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ کیا جب تک مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زندگی کا چراغ گل نہ کر دیا جائے تب تک ان کی مشکلیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ وہ یہ باتیں کھلم کھلا کرنے لگے کہ ہم انہیں شہید کر دیں گے۔ جناب ابوطالب نےجب مشرکوں کے یہ تیور دیکھے تو بنو ہاشم و بنو عبدالمطلب کو جمع کیا، انہیں خاندانی تعلق کا لحاظ کرایا اور ان سے کہا: تم لوگ انہیں
1 السیروالمغازی لابن اسحق ، ص181تا183-مستدرک حاکم، 5/79، حدیث:6981 ملخصا
2 شرح الزرقانی علی المواہب،2/8
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع