30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ایمان قبول کرنے کی خبر بجلی بن کرگری۔حضرت فاروقِ اعظم حضرت امیر حمزہ کے قبولِ اسلام کے تین دن بعد عین حالتِ جوانی میں ایما ن لائے۔1
حضرتِ عمرکا قبولِ اسلام:
حضرت عمر کے ایمان قبول کرنے کا واقعہ بڑا مشہور ہے، مختصریہ کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کے قبولِ اسلام کی دعا فرمائی، 2 دعا کی قبولیت کے اسباب یوں ہوئے کہ حضرت عمر معاذا للہ آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے، راستے میں خبر ملی کہ بہن اور بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں تو سخت غصے میں وہاں پہنچے، پہلے بہنوئی کو پیٹا پھر بہن کو مارا، مگر انہوں نے اسلام چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ یہ سن کر حیران ہوئے کہ آخر اس دین میں ایسا کیا ہے۔ کہنے لگے: مجھے بھی رب کا کلام پڑھاؤ! بہن نے کہا: پہلےغسل کرو! پاک صاف ہو جاؤ! غسل کے بعد جب کلامِ الٰہی پڑھا تو دل کی دنیا میں انقلاب پیدا ہوگیا، کہنے لگے: میں ایمان قبول کرنا چاہتا ہوں۔ ان دنوں نبی علیہ السلام کی سرگرمیوں کا مرکز دارِ ارقم تھا، یہ لوگ وہاں پہنچے، حضرت عمر کے وہاں پہنچنے سے کچھ مسلمان پریشان ہوئے مگر شیرِخدا حضرت امیر حمزہ فرمانے لگے: عمر کو اندر آنے دو! اگر وہ اچھی نیت سے آئے ہیں تو ٹھیک، ورنہ خود ان کی تلوار سے ان کا سرقلم کر دیں گے۔ دروازہ کھولا گیا، حضرت عمر آئے اور ایمان لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس غیرمتوقع خبر نے سب مسلمانوں کو خوش کر دیا، نعرۂ تکبیر سے مکہ کی
1 طبقات ابنِ سعد، 3/204- فیضانِ فاروقِ اعظم، 1/326
2 ابن ماجہ،1/77،حدیث:105
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع