30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہنچے اور کوئی بات کئے بغیر اپنی کمان اس زور سے اس کے سر پر ماری کہ سر زخمی ہوگیا، پھر جلال بھرے لہجے میں اس سے فرمایا: تُو نے میرے بھتیجے کو گالیاں دی ہیں اور بداخلاقی کی ہے، حالانکہ جانتا نہیں کہ میں بھی انہی کے دین پر ہوں۔ ابو جہل اس شیرِ غُراں(دھاڑنے والے شیر) کا جلال و غضب دیکھ کر گھبرا گیا، اس کےقبیلے کے لوگ حضرت حمزہ کی طرف بدلہ لینے کیلئے آگے بڑھے،مگر ابوجہل جان گیا تھا کہ حضرت حمزہ کے مقابلے کا کوئی نہیں تو کہنے لگا: دَعُوْا اَبَا عُمَارَةَ فَاِ نِّي وَالله لَقَدْ سَبَبْتُ ابْنَ اَخِيهِ سَبًّا قَبِيْحًا یعنی انہیں جانے دو، یہ ٹھیک غصہ کر رہے ہیں، میں نےہی ان کےبھتیجے کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔1
رشتہ داری اور تعلق کے جوش پر یہ سب کچھ ہوگیا، مگر جب گھر واپس آئے اور غصہ ٹھنڈا ہوا تو پریشانی ہونے لگی کہ کیا کریں؟ بھتیجے کا دین قبول کریں یا ایسے ہی رہیں۔ جیسے تیسے رات بسرکی، صبح ہوئی تو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور اپنی دلی بےچینی کا اظہار فرمایا۔ نبی علیہ السلام نے توجہ فرمائی اور دینِ اسلام کی حقانیت کے بارے میں چند ارشادات فرمائے، جن کی تاثیر سے حضرت امیر حمزہ کے سارے حجابات (پردے) اٹھ گئے، شک اور شبہات کا سارا غبار دور ہوگیا اور دل کی دنیا نورِ ایمان سے جگ مگ جگ مگ کرنے لگی۔آپ کے ایمان لانے سے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا اور کمزور مسلمانوں پر کافروں کے ظلم میں بڑی کمی آ گئی۔2
ابھی حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کی خبرتازہ ہی تھی کہ کافروں پر حضرت
1 السیر والمغازی لابن اسحق، ص171- السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،ص114
2 سبل الہدیٰ والرشاد، 2/332 ،333ملتقطا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع