30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مکہ کے کافروں کو یہ غلط فہمی تھی کہ ان کا ظلم و تشدد اسلام کا راستہ روک دے گا یا کم از کم اسلامی تحریک کو کمزور کر دےگا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی تھی اور اسلامی تحریک بھی مضبوط سےمضبوط تر ہوتی جا رہی تھی۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ کافروں کا ظلم و ستم کئی خوش نصیبوں کو راہِ را ست پر لانے کا سبب بن جاتا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چچا، حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
حضرت امیر حمزہ کا قبولِ اسلام:
یہ نبوت کے چھٹے سال سن 616 عیسوی کی بات ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک روز کہیں جا رہے تھے کہ ابوجہل راستےمیں مل گیا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور شدید تلخ کلامی شروع کر دی، جو منہ میں آیا کہتاچلا گیا، مگر پیکرِ حلم و وقار نے اس یاوہ گوئی اور بداخلاقی کا کوئی جواب نہ دیا، اس سے ابوجہل کے غصے کی آگ مزید بھڑک اٹھی، اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا، اسی سے آپ کو ایذا دینا شروع کر دی، یہاں تک کہ جسمِ نازک سے خون رسنے لگا، مگر اس پیکرِ تسلیم ور ضا نے کمال صبر کا مظاہرہ فرمایا اور اف تک نہ کی، ابوجہل دل کا غبار نکال کر وہاں سےچلتا بنا اور صحنِ حرم میں اپنے یاروں کی محفلوں میں جا بیٹھا،جبکہ آپ بھی خاموشی سے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ ایک لونڈی نے یہ سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اسی روز حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ حسبِ معمول جنگل سے شکار کر کے واپس لوٹے تو اس کنیز نے انہیں روک کر ابوجہل کی بدبختی اور ایذا رسانی(تکلیف پہنچانے) کا سارا واقعہ سنایا۔ حضرت امیر حمزہ کو یہ سن کر سخت غصہ آیا، اسی وقت دوڑتے ہوئے حرم شریف پہنچے، ابوجہل اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا، آپ اس کے سر پر جا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع