30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول نے ہمیں شرک و بت پرستی سے روکا، اس رسول نے ہمیں صرف خدائے واحد کی عبادت کا حکم دیا، اس رسول نے ہمیں ہر قسم کے ظلم و ستم، تمام برائیوں اور بدکاریوں سے منع کیا۔ ہم اس رسول پر ایمان لائے اور شرک و بت پرستی چھوڑ کر تمام برے کاموں سے تائب ہو گئے۔ بس( ان کی نظر میں ) یہی ہمارا گناہ ہے جس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہو گئی اور ان لوگوں نے ہمیں اتنا ستایا کہ ہم اپنے وطن کو خیر بادکہہ کر آپ کی سلطنت کے زیر سایہ پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اب یہ لوگ ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم پھر اسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں۔1
شاہی دربار میں رب کی رحمتوں کے انوار:
حضرت جعفر کی اس تقریر سے بادشاہ بڑا متاثر ہوا۔ عمرو بن عاص نے صورت حال اپنے خلاف جاتے دیکھی تو ترکش کا آخری تیر بھی پھینک دیا ، کہنے لگے: یہ مسلمان آپ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عجیب عقیدہ رکھتے ہیں۔ بادشاہ نے حضرت جعفر سے اس بارے میں پوچھا توآپ سورۂ مریم کی تلاوت فرمانے لگے۔ وہ عجب منظر تھا کہ نجاشی کا دربار اپنی پوری آب وتاب(شان) سے سجا ہے، بادشاہ کے وزیر اور مذہبی پیشوا (را ہ نما) وہاں موجود ہیں، مکہ کے دو سفیر بھی حاضرِ دربار ہیں، اس اجنبی ماحول میں حضرت جعفر قرآنِ کریم کی سورۂ مریم کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ اللہ کا کلام، شاہی دربار اور حضرت جعفر کی پر سوز تلاوت، یوں ایک سماں بندھ گیا، رب کی رحمت اور اس کے انوار کی ایسی رم جھم شروع ہوئی کہ آپ کی تلاوت سے بادشاہ اور عیسائی علما پر رقّت(رونے کی کیفیت)طاری ہو
1 المغازی لموسی بن عقبہ،ص71تا 73 ملتقطاً-مواہب ِلدنیۃ ،2/33
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع