30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حفاظت کا ذمہ ربِ کائنات نے خودلیا ہوا ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے:
وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ1
ترجمہ کنزالعرفان :”اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائےگا۔“
ربِّ کریم کے اس وعدۂ حفاظت کے علاوہ ظاہری طور پر آپ کے خاندان والے بھی آپ کے دفاع کیلئے تیار رہتے تھے۔ اس کے باوجود کافروں کا جب بھی بس چلتا تو وہ دل آزاری اور تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ اعلیٰ خاندانوں سے اسلام قبول کرنے وا لوں کے ساتھ بھی وہ یہی کرتے، جبکہ غریب اور نادار صحابَۂ کرام پر تشدد کرنا ان کا معمول تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مظالم اور وحشیانہ حرکتوں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ مکہ میں رہنا دوبھر(مشکل) ہوگیا۔
پہلی ہجرتِ حبشہ:
نبی علیہ السلام کو معلوم تھا کہ سرزمینِ حبشہ2 کا حکمران3 عادل، رحم دل اور نیک ہے،
1 پ6، المائدۃ: 67
2 موجودہ افریقی ملک ایتھوپیا(Ethiopia) کے علاقے جنہیں اہلِ عرب حبشہ کہتے تھے۔ پانچ نبوی یعنی 615 عیسوی میں اس ریاست کا نام ”اکسوم“ تھا،اسی نام کا شہر ریاست کا دارالحکومت تھا۔ آج بھی اس شہر کے کھنڈرات موجود ہیں۔اُس وقت یہ ریاست بہت وسیع سلطنت پر مشتمل تھی۔
3 حبشہ کے حکمران کو نَجاشی کہتے تھے۔ اس وقت کے نجاشی کا نام اصحمہ(اَصْ،حَ،مَہ) تھا۔ حضور علیہ الصلاۃ والسّلام نے ان کی اچھائی اور نرم مزاجی کی گواہی دی، یہ بعد میں ایمان لائے اور اِنہوں نے آپ کی طرف تحفے بھی بھیجے، نو ہجری میں ان کے فوت ہونے پر آپ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی۔ (بخاری، 1/445، حدیث: 1318- مواہب لدنیۃ، 1/444 ملخصاً) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہُ عنہمافرماتے ہیں: حضرت نجاشی کا جنازہ حضورصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کےلئے ظاہرکردیا گیاتھا آپ نے انہیں دیکھااور نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (عمد ۃ القاری، 6/164،تحت الحدیث :1318) بعد میں جس نجاشی کی طرف مکتوب بھیجا گیا وہ اسلام لانے سے محروم رہا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع