30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کے مبارک گلے میں چادر ڈال کر اس زور سے بل دیا کہ آپ کا گلا گھٹنے لگا، یہاں تک کہ کھڑے نہ رہ سکے اور مبارک گھٹنے زمین تک جا لگے۔ کہیں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں آ نکلے، انہوں نے یہ ستم دیکھا تو دوڑتے ہوئے آئے اور دھکا دے کر اس بدبخت کو دور کیا، صدیقِ اکبر روتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ظالمو! تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جس کا جرم یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔1
ظلم و ستم کے بے شمار واقعات میں سے یہ چند واقعات ہیں جو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ پیش آئے، حالانکہ آپ کی شخصیت مکہ میں ممتاز اور باوقار تھی اور کئی قبیلوں کی حمایت بھی آپ کو حاصل تھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ظلم و ستم کے وہ واقعات جو دوسرے مسلمانوں ان میں بھی بالخصوص کمزوروں کے ساتھ پیش آ رہے تھے وہ کتنے سنگین اور خوفناک ہوں گے!! کہا جا سکتا ہےکہ تکلیف دینے کے تمام حربےمسلمانوں پر آزمائے جا رہے تھے۔ سنگ دلی اور بے حسی کے ان مظاہروں میں بوڑھے یا جوان، عورت یا مرد کسی کی بھی تمیز نہیں تھی اور جس پر بھی بس چلتا اسی کو ظلم کی چکی میں پیس دیا جاتا۔ وہ ممتاز اور معزز افراد جو اسلام لائے ان کے ساتھ کافروں کا سلوک کیسا تھا، اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
معزز صحابہ پر ظلم و ستم کے واقعات:
روایتوں میں ملتا ہے کہ کافروں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ا للہ عنہ کو کئی دفعہ مارا، ایک دفعہ تو اتنا پیٹا کہ یہ کئی دن تک بیہوش رہے۔2 حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ جو بنو امیہ
1 بخاری ، 2/575، حدیث:3856-مواہب لدنیہ،1/303
2 تاریخ ابن عساکر،30/50
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع