30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فارغ ہوئے، ہاتھ دعا کیلئے بلند کر دیے اور تین مرتبہ یہ دعا مانگی: ” اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ یعنی اے اللہ ! تُو قریش کو اپنی گرفت میں لے لے۔“ پھر آپ نے نام بنام دعا کی کہ مالک! تُو اپنی گرفت میں لے لے، ابو جہل کو، عتبہ کو، شیبہ کو، ولید کو، امیہ کو، عقبہ کو اور عمارہ کو۔ 1
دعائے ضرر کی وجہ:
یوں تو مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی اپنے ذاتی دشمنوں کو دعائے ضرر نہ دی، لیکن اس مرتبہ انہوں نے حرکت ہی ایسی کی تھی کہ اس سراپا رحمت کو بھی جلال آ گیا۔ ان ظالموں نے ایسے وقت میں آپ کے جسمِ اطہر پر پلیدی لا ڈالی جب آپ اپنے محبوب رب سے راز و نیاز میں مصروف اور اس کے قرب کی لذتوں کے مزے لے رہے تھے۔ بہرحال نام لے لے کر کی جانے والی دعاؤں سےان سب کے رنگ ضرور فق ہوئے ہوں گے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے مبارک منہ سے جو بات نکل جائے وہ پوری ہوتی ہے اور یہ دعائیں بھی پوری ہوئیں۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ان سب کافروں کو جنگِ بدر کے دن دیکھا کہ ان کی لاشیں زمین پر پڑی ہوئی تھیں ۔ پھر ان سب کی لاشوں کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔2
عقبہ کی گستاخی:
ایک مرتبہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز میں مصروف
1 بخاری ، 1/193، حدیث:520
2 بخاری ، 1/193، حدیث:520-مواہب لدنیہ،1/305
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع