30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حیرت سے پوچھا: تجھے کیا ہوگیا ہے؟ بولا:میں جُوں ہی قریب پہنچا میرے اَوسان ہی خطا ہوگئے، میں نے دیکھا کہ ایک دہشت ناک سراور خوفناک گردن وا لا بھیانک اُونٹ مُنہ کھولے دانت کچکچاتا ہوا مجھے ہڑپ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے!ایسا بھیانک اُونٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے،اگر ابوجہل اور نزدیک آتا تو اُسے پکڑلیتے۔1 ایک مرتبہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کعبہ شریف کے پاس نماز میں مشغول تھے، شرک و کفر کے نمائندے یعنی کافروں کے سردار بھی حرم میں موجود تھے، ابوجہل نے آپ کی شان میں گستاخا نہ جملے کہے اور پھر اسے ایک گھٹیا حرکت سوجھی، کہنے لگا: فلاں جگہ اونٹ ذبح کئے گئے تھے، ان کی غلاظتیں اور گندگیاں اب بھی وہیں پر بکھری ہوئی ہیں۔ کون ہے ایسا جو انہیں اٹھا لائے اور جب یہ سجدے میں جائیں تو ان کی گردن اور پشت پر رکھ دے؟ اگر کوئی ایسا کر دے تو مزہ آ جائے گا۔ عقبہ بن ابی معیط نے اس بدبختی کیلئے خود کو پیش کر دیا۔ چنانچہ یہ گیا اور وہاں سے غلاظت میں لتھڑا ہوا بدبو دار بچّہ دان (یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے) لے آیا اور جب یہ پیکرِ نظافت و لطافت اپنے رب کےحضور سجدہ ریز ہوئے تو اس بدبخت نے وہ نجاست کا ملبہ آپ کی پاک گردن اور مبارک شانوں پر رکھ دیا ۔ کافر یہ منظر دیکھ کر خوشی سے باؤلے ہو رہے تھے۔ اتنے میں خاتونِ جنت، شہزادیِ کونین، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ہوئی تو وہ تشریف لائیں اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ان غلاظتوں کو دور کیا۔ آپ نے سجدے سے سر اٹھایا، نماز سے
1 السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،ص117
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع