30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھی، لیکن بعثت کے بعد اس نے دشمنی اور بغض کے زیرِ اثر ان دونوں کو طلاق دلوا دی تھی۔1 ایک دفعہ ذوالمجاز کے میلے میں جب آپ لوگوں کو دین کی دعوت دے رہے تھے، یہ آپ پر آواز کستا جا رہا تھا۔ گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتا جاتا: لوگو! یہ بے دین اور کاذب ہیں، ان کی باتوں میں مت آنا۔ ایک روایت میں ہے کہ آوا ز کسنے کے ساتھ ساتھ آپ کے مبا رک جسم کو پتھروں سے نشانہ بھی بناتا تھا۔2 اس کا گھر آپ کے گھر کے پاس تھا، آپ کے مکانِ عالیشان میں کوڑا کَرکَٹ ڈالنا بھی اس کا معمول تھا۔ اس کے ساتھ دوسرے پڑوسی بھی ایسا ہی کرتے، آپ صبر و تحمل کے ساتھ ان کی یہ حرکتیں برداشت کرتے اور صرف اتنا فرماتے: يَا بَني عبدِ مَنَاف اَيُّ جوَارِ هٰذَا یعنی اے عبدِ مناف کی اولاد! پڑوسی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں!!3
ابو جہل کے آپ پر مظالم:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر براہِ راست ظلم و ستم کرنے والے بدبختوں میں سے ایک ابوجہل بھی تھا۔ یہ جب تک زندہ رہا ہمیشہ آپ کی دشمنی اور ایذا رسانی پر خود بھی کمر بستہ رہا اور دوسروں کو بھی ابھارتا رہا۔ ایک دن آپ کعبہ شریف کے قریب نماز ادا فرما رہے تھے، کافروں کی ایک ٹولی بھی وہاں موجود تھی۔ ابوجہل نے جب آپ کو نماز پڑھتے دیکھا تو ایک بھاری پتھر اُٹھا کر آپ کے سرِ مُبارک کو سجدے کی حالت میں کچلنے کے ناپاک ارادے سے آگے بڑھا اور جُوں ہی نزدیک پہنچا تو ایک دم بوکھلا کر پیچھے کی طرف بھاگا، کافروں نے
1 مواہب لدنیہ، 1/392
2 مصنف ابن ابی شیبہ، 20/241، حدیث:37720
3 السیرۃ النبویۃ لدحلان، 1/226
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع