30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا: یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلع ہوسکے، اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمد( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) سچّے ہیں یا نہیں ؟ ابوجہل نے کہا: خدا کی قسم! بے شک وہ سچّے ہیں،کبھی کوئی جھوٹا حرف اُن کی زبان پر نہیں آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قُصَیْ1 کی اولاد ہیں، حج اور خانہ کعبہ کے متعلق سارے اعزاز اِنہیں حاصل ہی ہیں، اب نبوت بھی اِنہیں میں ہوجائےتو باقی قریشیوں کے لئے کیااعزاز رہ جائے گا؟ اس لیے ہم کبھی بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ 2
اِس سے پتا چلتا ہے کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سچے نبی ہونے اور قرآنِ کریم کے حق و سچ ہونے کے وہ بھی قائل تھے البتہ ان کے بغض اور تکبر نے اُنہیں دولتِ اسلام سےمحروم رکھا، بلکہ اسی تکبر اور بغض کی وجہ سے وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور آپ کے صحابہ کے دشمن ہوگئے اور ظلم و جبر کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال نہیں ملتی۔ ظلم و ستم کی ان آندھیوں کے باوجود آپ نے توحید کی شمع جلائے رکھی اور دینی دعوت کو عام کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ ہر مجمع، ہر بازار اور ہر جگہ جاکر آپ اللہ پاک کی وحدانیت کا چرچا کرتے اور آزاد ہو یا غلام، کمزور ہو یا طاقت ور، غریب ہو یا امیر، چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت سب کو آپ خدائے واحد و اَحد کی طرف بلاتے۔یہ سب صرف اس لیے تھا کہ جزیرۂ عرب کا گوشہ گوشہ رب کی توحید کے نور سے منور ہو اور ربِّ کائنات کی سب سے بہترین تخلیق(انسان) کی پیشانیاں باطل معبودوں کے سامنے نہ جھکیں بلکہ صرف
1 ان کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آباءو اجداد والے باب میں گزر چکاہے ۔
2 تفسیرِ بغوی، پ7، الانعام، تحت الآیۃ:33، 2/77
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع