30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آتا ہوں، یوں سب وہاں پھر سے جمع ہو گئے اور دو سری رات بھی تلاوت سننے میں گزر گئی۔ صبح کا اجالا پھیلنے لگا تو سب اٹھے اور گھروں کوروانہ ہوئے۔ راستے میں پھر سب کا سامنا ہو گیا، لگے ایک دوسرے کو طعن کرنے، پھر سے تاکیدکی کہ اب کوئی نہ آئے ورنہ بات پھیلی تو قوم کے لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ اگلی رات نے جب اپنے پر پھیلا ئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی میٹھی اور پیاری آواز سےتلاوت نے ان کےدلوں میں انگڑائی لی اور وہ تینوں بےقابو ہوکر وہاں پہنچ گئے۔ ایک رات پھر دلکش آوا ز سےتلاوت سننے میں گزر گئی اور وقت کا پتا نہ چلا۔ صبح ہوئی تو سب گھروں کو روانہ ہونے لگے، راستے میں پھر تینوں کی ملاقات ہو گئی، تینوں شرمندہ ہوئے اور پکا وعدہ کیا کہ آئندہ کوئی نہیں آئے گا۔ صبح ہوئی تو اخنس بن شریق نے بڑا سا ڈنڈا پکڑا اور ابو سفیان کے گھر آکر ان سے کہنے لگا: اَخْبِرْ نِیْ يَا اَبَاحَنْظَلَةَ عَنْ رَايِكَ فِيمَا سَمِعْتَ مِنْ مُحَمَّدٍ ؟یعنی ابو حنظلہ! سچ بتاؤ جو کلام تم سنتے رہے ہو اس کے بارے میں تمہاری كيا رائے ہے؟ ابو سفیان سنتے ہی کہنے لگے: فَمَا تَقُوْلَ اَنْتَ پہلے تم اپنا بتاؤ! اخنس کہنےلگا: اَرَاهُ الْحَقَّ یعنی مجھے تو حق لگتا ہے۔ ابوسفیان (بات ٹال گئےاور) کہنے لگے: کچھ باتوں کی تو مجھے سمجھ آئی ہے جبکہ کچھ میں سمجھ نہیں سکا۔ اخنس یہاں سے فارغ ہو کر ابوجہل کے پاس آیا اور کہنے لگا: يَا اَبَا الْحَكَمِ مَا رَايُكَ فِيمَا سَمِعْتَ مِنْ مُحَمَّدٍ ؟ اے ابوالحکم! سچ بتاؤ! تم نے جو کلام سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ جواباً ابوجہل نے اپنے ازلی بغض، حسد اور تکبر کا اظہار کیا۔1 جبکہ ایک روایت میں ہے کہ اخنس بن شریق اور ابوجہل کی آپس
1 السیروالمغازی لابن اسحق ،ص189 ، 190- سبل الہدی والرشاد،2/352
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع