30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیتے تھے کہ آپ سچے نبی ہیں اور قرآنِ کریم کسی انسان کا کلام نہیں ہے لیکن بغض، حسد اور تکبر انہیں اجازت نہ دیتے تھے کہ وہ اسلام کو سینے سے لگائیں۔
رئیسانِ قریش کا قرآن سننا:
اس بات کی تصدیق اس واقعے سے ہوتی ہے؛ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا معمول تھا کہ رات کو اپنے گھر نماز میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، ایک رات ابوسفیان ( جو اس وقت اسلام نہیں لائے تھے) آئے اور چپکے سے ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ گئے، تھوڑی دیر گزری کہ ابو جہل بھی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر ایک گوشے میں چھپ کر بیٹھ گیا، چندلمحوں بعد اَخنَس بن شُرَیق بھی آپ کی مبارک زبان سے تلاوت قرآن کا مزہ لینے کیلئے وہاں پہنچ گیا اور ایک جگہ دَبَک کر بیٹھ گیا۔ تینوں سخت کافر اور اسلام کے پکے دشمن قرآن سننے کے شوق میں وہاں بیٹھے تھے اور تینوں ایک دوسرے سے بے خبر تھے۔ قرآنی آیات و الفاظ کی مٹھاس اور حلاوت، ساتھ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری اور دلکش آواز میں کانوں میں رس گھولتی تلاوت ، یہ تینوں ایسا کھوئے کہ رات کب گزری پتا ہی نہ چلا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تلاوت ختم فرمائی تو ان میں سے ہر ایک نے اپنی راہ لی۔ راستے میں ایک مقام پر سب کی ملاقات ہو گئی، سب سمجھ گئے کہ ہوا کیا ہے، ایک دوسرے کو کوسنے لگے کہ سارا دن ان کی مخالفت کرتے ہو اور رات کی تنہائی میں آ کر ان سے قرآن سنتے ہو، قوم کو اگر پتا چل گیا تو وہ اپنا عقیدہ بدل لیں گے۔ یوں سب نے وعدہ کیا کہ آئندہ کوئی نہیں آئے گا۔ اگلی رات آئی تو تلاوت سننے کی بے قراری تینوں کو پھر وہاں لے آئی، ممکن ہے ہر ایک نے سوچا ہو کہ دوسرا تو کوئی آئے گا نہیں، لہٰذا میں سن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع