30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تقریباً ہرنبی علیہ السلام نے دین کی راہ میں قربانیاں دی اور تکلیفیں اٹھائی ہیں۔مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وا ٰلہٖ وسلم نے بھی دین کی دعوت دیتے ہوئے مخالفتوں اور دشمنیوں کا سامنا کیا ہے، بلکہ آپ کے دشمن آپ کی مخالفت میں انسانیت کا دامن بھی چھوڑ بیٹھے۔ جس طرح ہو سکا انہوں نے آپ اور آپ کے ماننے والوں یعنی صحابۂ کرام کو ستایا۔ بالخصوص علانیہ دعوتِ اسلام کا سلسلہ شروع ہوتے ہی کافروں نے ظلم و ستم کی جو آندھیاں چلائیں ان کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے کہ آج بھی ان کی یاد سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وا ٰلہٖ وسلم نے بعد میں اسی زمانے کو یادکرتے ہوئے ارشادفرمایا: وَ لَقَدْ اُوْذِيتُ فِي الله وَمَا يُؤْذٰى اَحَدٌ یعنی اللہ کے راستے میں جتنی تکلیف مجھے دی گئی اتنی کسی اور کو نہیں دی گئی۔1
کافروں کی دشمنی کی وجہ:
دراصل کافروں کو یہ خطرہ تھا کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰ لہٖ وسلم جس سنہرے اور سچے دین کی بات کرتے ہیں اگر یہ دین عام ہوگیا اور اس پر عمل کرنے والے ہر طرف پھیل گئے تو گویا انقلاب آ جائے گا۔ جس سے کافروں کے لاچار باطل معبودوں، ان کی پوجا پاٹ، ان کے نذرانوں اور سب سے بڑھ کر قریش کی مذہبی چودرا ہٹ کا جنازہ نکل جائے گا، اسی ڈر، بغض اور حسد کی وجہ سے وہ اسلام کے مخالف بنے رہے۔ ورنہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لائے ہوئے دین کی حقانیت اور قرآنِ کریم کی سحرآفرینی نے بڑے بڑے کافر سرداروں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے دل اس بات کی گواہی
1 ترمذی، 4/213،حدیث:2480
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع