30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توحید کی شمعیں بجھ چکی تھیں اور شرک و الحاد کی چنگاریاں بھڑک رہی تھیں۔ گزشتہ انبیائے کرام کی تعلیمات بدل گئیتھیں اور وحیِ الٰہی کا چمکتا نور دھندلا گیا تھا۔گنتی کے چند خوش نصیب افراد کے سوا خالق و مالک اللہ پاک کی وحدانیت کا پرچم لہرانے والا کوئی نہ تھا۔ اَلْغَرَض!چھٹی صدی عیسوی ایک ایسا دور تھا جب انسان نے عزت و کرامت کا لباس اتار پھینکا تھا اور جہالت و ظلم سے ناتا جوڑ لیا تھا۔ دنیا کے دیگر خطوں کی طرح جزیرہ نما عرب کی حالت بھی ہرگز بہتر نہ تھی، بلکہ یہ علاقہ جہالت اور ظلمت کے اعتبار سے دنیا کے کئی دوسرے حصوں سے ا ٓگے تھا۔
سرزمینِ عرب اور اہلِ عرب:
”عرب“ بَرِّاعظم ایشیا میں جنوب مغربی حصے کا ایک خطہ ہے۔ چونکہ اسےتین اطراف(سمتوں) سے سمندر نے گھیر رکھا تھا اس لیے اسے جزیرۂ عرب یا جزیرہ نما عرب بھی کہتے ہیں، جبکہ چوتھی سمت میں اس کی سرحدیں موجودہ عراق 1 اور موجودہ ا ُرْدن 2 سے ملتی ہیں۔ اس خطے میں سرسبزو شاداب زمینیں کم ہیں اور اس کا اکثر حصہ پہاڑوں اور ریگستانی صحراؤں پر مشتمل ہے۔ اپنے اسی محلِ وقوع کی بدولت یہ ایسا محفوظ رہا ہے کہ یہاں
1عراق(Iraq) مغربی ایشیا(Western Asia) کا قدیم ترین عرب ملک ہے، یہ انبیا کی سرزمین اور تیل کے ذخائر سے مالا مال ہے، پہلے سلطنتِ فارس کا حصہ تھا، حضرت عمر رضی اللہُ عنہ کے دور میں فتح ہوا۔اس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت بغداد (Baghdad)ہے۔ اب اس کی آبادی 43 ملین سے کچھ زائد ہے۔
2اُرْدن(Jordan)دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر واقع مغربی ایشیا(Western Asia) کا ملک ہے۔ اس کا دار الحکومت عمان(Amman) ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ صحرائے عرب پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال مغربی سرے پر ہلال نما کچھ زرخیز علاقہ بھی ہے۔ اب اس کی آبادی 11ملین سے کچھ زائد ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع