30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3)نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خود تو لکھ سکتے نہیں تو انہوں نے یہ کہانیاں کسی سے لکھوا لی ہیں۔ اب دن رات یہی کہانیاں سنتے ہیں، جب یاد ہو جاتی ہیں تو یہ ہمیں سنا دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ رب کا کلام اور وحیِ الٰہی ہے۔
یہی کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تحقیر(بے حرمتی) کرتے اور آپ کی ذات میں شک و شبہ پیدا کرنے کے لئے کہتےکہ ان میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ یہ ہم جیسے ہی تو ہیں۔ قرآنِ کریم میں ان کی اس بات کو ایسے ذکرکیا گیا ہے:
مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ 1
ترجمہ: اس رسول کو کیا ہوا کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے۔2
(3)متبادل پیش کرنا:
قریش کے کافروں کی تیسری چال یہ تھی کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰ لہٖ وسلم جن چیزوں کی طرف بلاتے ہیں ہم لوگوں کو ان کا متبادل (Alternate)پیش کر دیں۔ لہٰذا انہوں نے سوچا کہ قرآنِ پاک میں عاد و ثمود اور دیگرقوموں کے واقعات ہیں تو ان کے مقابلے میں ایسے ہی قصے لوگوں کو سنائے جائیں جو دلچسپ بھی ہوں اور حیرت انگیز بھی۔ اس کی ذمہ داری نضر بن حارث نامی کافر نے لی، یہ شخص تاجر تھا اور تجارت کے لئے دوسرے ملکوں کا سفر کیا کرتاتھا۔ اس نے عجمی لوگوں کے قصے کہانیوں پرمشتمل کتابیں خریدی ہوئی تھیں،یہ لوگوں کو وہی کہانیاں سناتا اور کہتا: نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمہیں عاد اورثمود
1 پ18، الفرقان:7
2 تفسیر خازن،پ 18، الفرقان، تحت الآیۃ:4تا 7، 3 / 366
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع