30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ تھا کہ جب وہ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کےقریبی ہوکر آپ اور آپ کے ساتھیوں کا مذاق اڑائیں گے تو دوسرے آپ کی باتوں پرکیوں اعتبار کریں گے؟ قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر ان کی اس ہنسی و مذاق کا رد کیا گیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ(۲۹) وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ(۳۰) وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَـكِهِیْنَ٘ۖ(۳۱) وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ(۳۲) (پ30، المطففین:29 تا 32)
ترجمہ: بے شک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے اور جب اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بے شک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں۔
ان آیات میں بیان کیا جا رہا ہے کہ کفار دنیا میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے ہیں۔ مذاق اڑانے والوں میں ابوجہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل سمیت کافروں کے کئی سردار شامل تھے جو حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم اور دیگر پر ہنستے اور جب یہ غریب مسلمان، کافر سرداروں کے پاس سے گزرتے تو یا تو کافر ان کے بارے میں آنکھوں ہی آنکھوں میں طنز بھرے اشارے کرتے یا پھر ایک دوسرے سے کہتے: یہ لوگ بھٹک گئے ہیں کہ ایک شخص (آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) پر ایمان لے آئے ہیں اور آخرت کی فرضی امیدوں کے چراغ جلا کر دنیا کی حقیقی لذتوں کو لات مار بیٹھے ہیں۔1
1 تفسیر کبیر، پ 30، المطفّفین،تحت الآیۃ: 29 تا 36، 11 / 94 ، 95
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع