30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر لو گے؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا: ہاں! ہاں! ہم آپ کی بات کا یقین کر لیں گے کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا اور امین ہی پایا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ میں تم لوگوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرا رہا ہوں اور اگر تم لوگ ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر اللہ پاک کا عذاب آئے گا۔ یہ سن کر تمام قریش ناراض ہو کر چلے گئے۔ ابولہب کی بدبختی ایک بار پھر آڑے آئی اور وہ آپ کی شان میں بدزبانی کرنے لگا، آپ نے تو اس گستاخی کا کوئی جواب نہ دیا لیکن آپ کے رب نے اس کی مذمت(برائی) میں قرآنِ پاک کی ایک مکمل سورت نازل فرمائی۔1
دعوتِ دین کا تیسرا مرحلہ:
اعلانِ نبوت کے چوتھے سال (بمطابق 613ء میں) اللہ کریم نے یہ حکم نازل فرمایا:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ(۹۴)2
ترجمۂ کنزُ العِرفان :”پس وہ بات اعلانیہ کہہ دو جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔“
اس میں اللہ پاک نے سب کو کھلم کھلا دین کی تبلیغ فرمانے کاحکم دیا،لہذا اس کے بعد آپ علانیہ دین کی تبلیغ کرنےاور شرک و بت پرستی کی کھلم کھلا برائیاں بیان فرمانے لگے۔ پہلے قریش آپ کے مخالف تھے، اب آپ کی دعوت سے پورا عرب مخالفت کرنے لگا۔3
مال و زر کی پیش کش:
اعلانیہ تبلیغ کے بعد جہاں راستے کشادہ ہوئے وہاں مخالفتوں کے سلسلے بھی طویل
1 بخاری، 3/294، حدیث: 4770
2 پ 14، الحجر: 94
3 شرح الزرقانی علی المواہب ، 1/461 ، 462
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع