30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ دین کا دوسرا مرحلہ:
اس کے بعد آپ نے مخصوص افراد کو دعوت دینے کا طریقہ چھوڑا اور ڈنکے کی چوٹ پر دین کی دعوت دینا شروع کر دی۔ اس دعوت کا آغاز یوں ہوا کہ آپ نے آلِ عبدالمطلب کی دعوت کا اہتمام کیا، کھانے کے بعد آپ نے رب کی وحدانیت اور اپنی نبوت و رسالت کا اظہار فرما کر دین کی دعوت دی۔ ابولہب بھی وہاں موجود تھا، یہ دعوت سنتے ہی آگ بگولہ(غصے سے لال) ہوگیا اور جو منہ میں آیا بکنے لگا۔ اس کی ہلڑ بازی (ہنگامے) کی وجہ سے یہ محفل برخا ست(ختم) ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد آپ نے پھر خاندان والوں کو بلایا اور بڑے درد مندانہ انداز میں ان سے خطاب فرمایا اور انہیں دنیا و آخرت کی بھلائیوں کی طرف آنے کی دعوت دی۔ ابولہب نے پھر نازیبا(نامناسب) باتیں کہنا شروع کر دیں اور اپنے بھائیوں بہنوں کو آپ کے خلاف بہکانے لگا۔ سید عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پھوپھی جان حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو ابولہب کی باتیں ناگوار گزریں اور انہوں نے اسے برا بھلا کہا، جس پر ابو لہب سٹپٹاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔1
اقارب(قریبی رشتہ داروں) کو دعوت دینے کے بعد آپ نے بقیہ قریشیوں کو دعوتِ حق دینے کے لئے ایک دن کوہِ صفا پر چڑھ کر سب کو بلایا، سب جمع ہونے لگے، جو خود نہ آسکتا تھا اس نے اپنی طرف سے کسی اور کو بھیجا تا کہ دیکھے کہ یہ پکار کیسی ہے۔ جب ابولہب سمیت سب جمع ہو گئے تو آپ نےفرمایا: اے میری قوم! اگر میں تم لوگوں سے یہ کہہ دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر چھپا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین
1 سیرتِ حلبیہ، 1/403 تا 405
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع