30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوششوں سے مزید کئی افراد اسلام لے آئے اور ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہو گئی۔ چونکہ اسلام کی دعوت کا سلسلہ ابھی تک خفیہ طریقے سے جاری تھا اس لئے یہ لوگ خفیہ طریقے سے عبادت کرتے، لیکن پھر بھی اسلام کی خوشبوئیں مکہ میں ہر طرف پھیلنے لگیں اور مکہ کے کافر اسے روکنےکی کوششیں کرنے لگے۔
”دارِ ارقم“ اسلام کی پہلی تربیت گاہ:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے محسوس فرمایا کہ ایک ایسی جگہ ہو جہاں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت بھی ہو سکے اور وہ وہاں آسانی سے عبادت کر سکیں۔ اس کام کے لئے آپ کی نگاہِ انتخاب ”دارِ ارقم1 “ پر پڑی۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ 2 خود بھی اسی قافلے کے رکن تھے، اس لئے انہوں نے خوشی خوشی اپنا مکان اسلام کی پہلی تربیت گاہ کے لئے پیش کر دیا۔ یہ ان کی خوش نصیبی تھی کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کئی سال تک اس مکان میں رشد و ہدایت کی محفلیں سجاتے رہےاور اپنے پیروکاروں کی تربیت فرماتے رہے۔
دارِ ارقم ہی کیوں؟
حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان کو منتخب کرنے کی ایک وجہ شاید یہ رہی ہو کہ ان کا
1 دارِاَرقم کوہِ صَفا پر تھا ۔ جب مکہ کے کافروں کی طرف سے خطرات بڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اِسی میں پوشیدہ طور پرتشریف فرما رہے۔ اِسی مکانِ عالیشان میں کئی صاحِبان مُشَرّ ف بہ اسلام ہوئے ۔ سیِّدُالشُّہدا حضرتِ حمزہ اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ، حضرتِ عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما بھی اِسی مکانِ بَرَکت نشان میں داخلِ اِسلام ہوئے ۔ (رفیق المعتمرین ، ص119 بتغیر)
2 حضرت اَرقَم بن ابو ارقم مخزومی قُریشی رضی اللہ عنہ قدیمُ الاسلام صحابی،جلیلُ القدر شخصیت کے مالک، تمام غزوات میں شرکت کرنے والے مجاہد، کاتبِ وحی، راویِ احادیث اور اوّلین مہاجرین سے ہیں، کوہِ صَفا پر واقع ا سلام کا پہلا مرکز دارِاَرقَم آپ کا ہی گھر تھا۔ آپ کا وصال 22جُمادَی الاُخریٰ 53ھ یا 55ھ کو مدینہ پاک میں ہوا۔ یہ جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ (اسد الغابہ، 1/95- المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، 5/279-ماہنامہ فیضان مدینہ فروری2019،ص46)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع