30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ دین کا پہلا مرحلہ:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ( 610ء میں )تبلیغ کا آغاز سب سے پہلے اپنے قریبی جاننے والوں سےکیا۔ آپ رازداری کے ساتھ انہیں اسلام کی دعوت پیش کرتے۔ یہ اس لئے نہیں تھا کہ کھلم کھلا دعوت دینے میں آپ کو اپنی جان کا خوف تھا، بلکہ یہ انداز مصلحت اور حکمت کے عین مطابق تھا۔ ایک حکمت تو یہی تھی کہ جلد ایمان قبول کرنے وا لوں کے ذریعے افرادی قوت بڑھائی جائے اور دوسری حکمت یہ تھی کہ بعد میں آنے وا لوں کے لئے یہ طریقہ مشعلِ راہ بن جائے کہ دعوت و تبلیغ کے میدان میں ہمیشہ ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے حکمتِ عملی طےکی جائے۔ بہرحال اسلام کی دعوت دینے کا یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔1
السَّابِقُونَ الاَوّلُون:
اس عرصے میں سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ وہ اسی وقت ایمان لے آئی تھیں جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ ان کے بعد آزاد مَردوں میں حضرت ابوبکر صدیق، لڑکوں میں حضرت مولا علی، آزاد کردہ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہم ایمان لائے۔2حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ ہر دلعزیز، ملنسار اور بڑے با اخلاق شخص تھے، ان کی دریا دلی (سخاوت) اور حُسنِ تجارت(اچھا تاجر ہونے) کی وجہ سے لوگوں کا ان کے پاس آنا جانا بہت تھا۔ انہوں نے اپنے پاس آنے جانے والوں میں بااعتماد افراد کو دین کی دعوت دینا شروع کر دی، یوں ان کی
1 فقہ السیرۃ، ص68، 69ملخصاً
2 شرح الزرقانی علی المواہب ، 1/454 ، 455
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع