30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زمانۂ جاہلیت:
اس میں شک نہیں کہ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آمد سے پہلے تقریباً ساری دنیا جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی، یہ اندھیرے اتنے گہرے تھے کہ اُس وقت کو آج بھی”زمانۂ جاہلیت“ کہاجاتا ہے۔ جاہلیت ایک صفت ہے لیکن یہ صفت ایک مخصوص عرصے میں اتنی زیادہ پائی گئی کہ یہ عَلَم(خاص نام ) کے درجے تک پہنچ گئی ہے۔ آج کے دور میں ”زما نۂ جاہلیت“ ایک اصطلاح (مخصوص لوگوں کا خاص مفہومی معنی ) بن چکی ہے۔ امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”جاہلیت“ کا استعمال ماضی پر ہوتا ہے، اس سے مراد اسلام سے پہلے کا زمانہ ہے۔1 جاہلیت کی نسبت جہل کی طرف ہے یعنی وہ کہ جس کے پاس علم نہ ہو یا وہ جو علم پرعمل نہ کرے۔ چونکہ زما نۂ جاہلیت کے لوگ ایسے افعال اور اقوال کے عادی تھے جنہیں کوئی جاہل ہی ایجاد کرسکتا ہے اور جاہل ہی ان پرعمل کر سکتا ہے،اس لیے اس دور کو زما نۂ جاہلیت کہہ کر یادکیا جاتا ہے۔ انسان اس وقت دنیا بھر میں اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی طور پر ذلت اور گراوٹ کے گہرے گڑھے میں منہ کے بل گرتا چلا جا رہا تھا۔ حالت یہ تھی کہ اُس وقت کی مہذب (تہذیب یافتہ) اور متمدن قومیں بھی جہالت کے افعال میں مبتلاتھیں۔ اُس دور کے ایران کا طویل و عریض خطہ ہو یا جنوبی ایشیا کے سرسبز و شاداب میدان، چین کی عظیم سلطنت ہو یا قیصر کی پُرعظمت ( شان و شوکت والی) بادشاہت، مصر کی قدیم تہذیب ہو یا رومی سلطنت کے علاقے، تقریباً تمام جگہوں کے لوگ محرومیوں اور مایوسیوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے نظر آتے تھے، تقریباً ہر جگہ
1 فتح الباری،8/127
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع