30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا، اے کاش! ان دنوں میں جوان ہوتا، اے کاش! اُس وقت میں زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نِکالے گی۔ آپ نے دریافت فرمایا: کیا میری قوم مجھے نِکالے گی؟ کہا: ہاں! جب بھی کوئی شخص ایسی چیز لے کر آیا جیسی آپ لائے ہیں تو اس سے دشمنی کی گئی۔ اگر مجھے آپ کا وہ زمانہ نصیب ہوا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔1
پہلی وحی سے ملنے والا اہم سبق:
پہلی وحی2 کی آمد کا یہ منظر اس حقیقت کا اظہار کر رہا ہے کہ وحی کا یہ سلسلہ ذاتی اور باطنی نہ تھا، بلکہ یہ ایک خارجی حقیقت تھی، اس کا دل اور خیال سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اچانک سے خوف اور ڈر کا پیدا ہونا بھی اسی طرف راہ نمائی کرتا ہے، کیونکہ خوف اور ڈر اس چیز سے ہوتا ہے جو خلافِ توقع اور اچانک ہوتی ہے، اگر کسی کام کو کچھ عرصے تک کر لیا جائے تو پھر اس سے خوف اور ڈر بھی ختم ہو جاتا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ پر جو وحی نازل ہوئی وہ حقیقت میں اللہ پاک کی طرف سے تھی۔ اسی طرح پہلی وحی نازل ہونے کے بعد کچھ عرصے تک وحی کا رُک جانا بھی اسی حقیقت کا اظہار ہے۔
1 بخاری،1/7، حدیث:3
2لغت(Dictionary) کے مطابق وَحی کا معنیٰ خفیہ طریقے سے خبر دینا، اشارہ کرنا اور پیغام دینا وغیرہ ہے۔ شریعت کی اِصطلاح میں انبیائے کرام علیہمُ السَّلام پر اللہ پاک کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کو ”وَحی“ کہتے ہیں۔اس کی تین قسمیں ہیں: (1)اللہ پاک کا کلام براہِ راست سننا۔ جیسے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے شبِ معراج اور کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ ا لسّلام نے سنا۔ (2)فرشتے کے ذریعے پیغامِ الٰہی کا آنا۔ (3)انبیائے کرام کے دل میں کسی بات کا ڈالا جانا۔(ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2019،ص 30 ماخوذاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع